السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
310. -- باب: ما روي في كفارة من أتى امرأته حائضا
-- باب: اس شخص کے کفارے کے بارے میں مروی احادیث کا بیان جس نے اپنی بیوی سے حالتِ حیض میں صحبت کی
حدیث نمبر: 1518
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ، وَرَوَى الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَظُنُّهُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَمَرَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِخُمُسَيْ دِينَارٍ. وَهَذَا اخْتِلَافٌ ثَالِثٌ فِي إِسْنَادِهِ وَمَتْنِهِ رَوَاهُ إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ عَنْ بَقِيَّةَ بْنِ الْوَلِيدِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ امْرَأَةٌ تَكْرَهُ الرِّجَالَ ⦗٤٧٢⦘ فَكَانَ كُلَّمَا أَرَادَهَا اعْتَلَّتْ لَهُ بِالْحَيْضَةِ فَظَنَّ أَنَّهَا كَاذِبَةٌ فَأَتَاهَا فَوَجَدَهَا صَادِقَةً فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِخُمُسَيْ دِينَارٍ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِسْحَاقُ عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَتْ لَهُ امْرَأَةٌ فَذَكَرَهُ وَهُوَ مُنْقَطِعٌ بَيْنَ عَبْدِ الْحَمِيدِ وَعُمَرَ.
(الف) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے (راوی کے گمان کے مطابق) روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو خمس دینار صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ اس کی سند اور متن میں اختلاف ہے۔
(ب) اوزاعی اسی سند کے ساتھ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کی ایک بیوی مردوں کو ناپسند کرتی تھی۔ جب بھی وہ اس کے پاس آنا چاہتے تو وہ حیض کا عذر کر دیتی، انہوں نے سمجھا: وہ جھوٹی ہے۔ وہ اس کے پاس آئے تو اسے سچا پایا، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دو خمس دینار صدقہ کرنے“ کا حکم دیا۔
یہ روایت عبدالحمید اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1518]
(ب) اوزاعی اسی سند کے ساتھ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کی ایک بیوی مردوں کو ناپسند کرتی تھی۔ جب بھی وہ اس کے پاس آنا چاہتے تو وہ حیض کا عذر کر دیتی، انہوں نے سمجھا: وہ جھوٹی ہے۔ وہ اس کے پاس آئے تو اسے سچا پایا، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دو خمس دینار صدقہ کرنے“ کا حکم دیا۔
یہ روایت عبدالحمید اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحيض/حدیث: 1518]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1518 in Urdu