السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3106. -- باب: نكاح المطلقة ثلاثا
-- باب: تین طلاقیں پانے والی عورت کے (دوسرے) نکاح کا بیان۔
حدیث نمبر: Q15190
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي الطَّلْقَةِ الثَّالِثَةِ: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة: 230] ، فَاحْتَمَلَتِ الْآيَةُ حَتَّى يُجَامِعَهَا زَوْجٌ غَيْرُهُ وَدَلَّتْ عَلَى ذَلِكَ السُّنَّةُ فَكَانَ أَوْلَى الْمَعَانِي بِكِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا دَلَّتْ عَلَيْهِ سُنَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ نے تیسری طلاق کے بارے میں فرمایا: ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ ”پھر اگر وہ اسے (تیسری) طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور شوہر سے نکاح کرے۔“ [سورة البقرة: 230]
تو آیت میں یہ احتمال تھا کہ (مراد یہ ہے) یہاں تک کہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا شوہر اس سے ہمبستری کرے، اور سنت نے اسی پر دلالت کی، لہٰذا کتاب اللہ عزوجل کے معانی میں سب سے زیادہ لائق وہی معنی ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نے دلالت کی ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: Q15190]
تو آیت میں یہ احتمال تھا کہ (مراد یہ ہے) یہاں تک کہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا شوہر اس سے ہمبستری کرے، اور سنت نے اسی پر دلالت کی، لہٰذا کتاب اللہ عزوجل کے معانی میں سب سے زیادہ لائق وہی معنی ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نے دلالت کی ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: Q15190]
حدیث نمبر: 15190
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَهَا تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلَاقِي فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَإِنَّمَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لَا حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ"، قَالَتْ: وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْبَابِ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ فَنَادَى يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَا تَسْمَعُ مَا تَجْهَرُ بِهِ هَذِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ وَفِي رِوَايَةِ الزَّعْفَرَانِيِّ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ امْرَأَةَ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ إِلَى قَوْلِهِ:" لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ" لَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
عروہ سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: ”میں رفاعہ قرظی کے نکاح میں تھی تو اس نے مجھے تین طلاقیں دے دیں۔ میں نے عبدالرحمن بن زبیر سے نکاح کر لیا، اس کے پاس کپڑے کا پھندا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: ”کیا تو رفاعہ کے پاس واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہے؟ یہ نہیں ہو سکتا جب تک تو اس سے جماع نہ کرے اور وہ تجھ سے لطف اندوز نہ ہو۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے اور سیدنا خالد بن سعید رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے اجازت کے منتظر تھے، انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آواز دی: ”اے ابوبکر رضی اللہ عنہ! کیا سن رہے ہو؟ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کس بات کا اظہار کر رہی ہے۔“
(ب) زعفرانی کی روایت میں سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ رفاعہ قرظی کی عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، پھر اس نے حدیث کو اس کی مثل ذکر کیا ہے، اس قول تک: ”یہاں تک کہ وہ تجھ سے لطف اندوز ہو اور تو اس سے جماع کر لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15190]
(ب) زعفرانی کی روایت میں سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ رفاعہ قرظی کی عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، پھر اس نے حدیث کو اس کی مثل ذکر کیا ہے، اس قول تک: ”یہاں تک کہ وہ تجھ سے لطف اندوز ہو اور تو اس سے جماع کر لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الرجعة/حدیث: 15190]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 15190 in Urdu