السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3127. -- باب: لا يجزي أن يطعم أقل من ستين مسكينا كل مسكين مدا من طعام بلده
-- باب: اس بیان میں کہ ساٹھ مساکین سے کم کو کھانا کھلانا کفایت نہیں کرتا، اور ہر مسکین کو اس کے شہر کی خوراک میں سے ایک مد دیا جائے۔
حدیث نمبر: 15287
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، نا أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَذَكَرَ قِصَّةَ ظِهَارِ أَوْسٍ إِلَى أَنْ قَالَ:" فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ" قَالَتْ خُوَيْلَةُ: قُلْتُ: وَأِيُّ الرَّقَبَةِ لَنَا وَاللهِ مَا يَخْدُمُهُ غَيْرِي قَالَ:" فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ" قَالَتْ: وَاللهِ لَوْلَا أَنَّهُ يَذْهَبُ يَشْرَبُ فِي الْيَوْمِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَذَهَبَ بَصَرُهُ قَالَ:" فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا" قَالَتْ: فَمِنْ أَيْنَ هِيَ الْأَكْلَةُ إِلَى مِثْلِهَا، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَطْرِ وَسْقٍ ثَلَاثِينَ صَاعًا وَالْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا قَالَ:" لِيُطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَلْيُرْجِعْكِ" كَذَا رَوَاهُ أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَرَوَاهُ الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ عَنْ عِكْرِمَةَ دُونَ ذِكْرِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيهِ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ، فَقَالَ⦗٦٤٤⦘ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا" فَقَالَ: لَا أَجِدُ، قَالَ: فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ مِنْ تَمْرٍ يُقَالُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا وَيُقَالُ عِشْرُونَ صَاعًا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذْ هَذَا فَاقْسِمْهُ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَفْقَرُ مِنِّي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلْهُ أَنْتَ وَأَهْلُكَ".
عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اوس کے ظہار کا قصہ نقل فرماتے ہیں ﴿فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ﴾ [سورة المجادلة: 3] تک۔ خویلہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”میرے علاوہ اس کا خدمت گار کوئی نہیں، غلام موجود نہیں ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ﴾ [سورة المجادلة: 4] ”جو غلام نہ پائے تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے۔“ خویلہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اللہ کی قسم! اگر وہ دن میں تین بار کھاتا پیتا نہ ہو تو اس کی نظر چلی جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا﴾ [سورة المجادلة: 4] ”جو طاقت نہ رکھے وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے۔“ خویلہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اس جیسے کے پاس اتنا کھانا کہاں؟“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نصف وسق منگوایا اور ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ساٹھ مسکین کو کھلائے اور رجوع کرلے۔“
(ب) حکم بن ابان حضرت عکرمہ سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ذکر کیے بغیر نقل فرماتے ہیں، اس کے آخر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھلائے۔“ اس نے کہا: ”میرے پاس موجود نہیں۔“ راوی کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوریں لائی گئیں۔ غالباً 15 صاع یا 20 صاع تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لے کر تقسیم کر دو۔“ تو اس شخص نے کہا: ”پہاڑ کے ان دونوں کناروں کے درمیان مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ کھائیں اور اپنے گھر والوں کو کھلائیں۔“
ابوحمزہ ثمالی نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15287]
(ب) حکم بن ابان حضرت عکرمہ سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ذکر کیے بغیر نقل فرماتے ہیں، اس کے آخر میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھلائے۔“ اس نے کہا: ”میرے پاس موجود نہیں۔“ راوی کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوریں لائی گئیں۔ غالباً 15 صاع یا 20 صاع تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لے کر تقسیم کر دو۔“ تو اس شخص نے کہا: ”پہاڑ کے ان دونوں کناروں کے درمیان مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ کھائیں اور اپنے گھر والوں کو کھلائیں۔“
ابوحمزہ ثمالی نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الظهار/حدیث: 15287]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم برقم 15245»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 15287 in Urdu