السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3137. -- باب: اللعان على الحمل
-- باب: حمل پر لعان کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15348
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا عَبَّاسٌ الْأَسْفَاطِيُّ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ح وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي قَالَا: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ:" ذُكِرَ الْمُتَلَاعِنَانِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِكَ قَوْلًا، فَانْصَرَفَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ فَذَكَرَ لَهُ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، فَقَالَ عَاصِمٌ: مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا إِلَّا بِقَوْلِي، فَجَاءَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ، وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا قَلِيلَ اللَّحْمِ سَبِطَ الشَّعْرِ، وَكَانَ الَّذِي ادَّعَى أَنَّهُ وَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ آدَمَ خَدْلًا كَثِيرَ اللَّحْمِ جَعْدًا قَطَطًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُمَّ بَيِّنْ" فَوَضَعَتْ شَبِيهًا بِالَّذِي ذَكَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَهَا" فَلَاعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا" فَقَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ: هِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُ هَذِهِ"، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: لَا، تِلْكَ امْرَأَةٌ كَانَتْ تُظْهِرُ السُّوءَ فِي الْإِسْلَامِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُوسُفَ عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: فَهَذِهِ الرِّوَايَةُ تُوهِمُ أَنَّهُ لَاعَنَ بَيْنَهُمَا بَعْدَ الْوَضْعِ وَقَدْ يَحْتَمِلُ ⦗٦٦٨⦘ أَنْ يَكُونَ بَعْضُ رُوَاتِهِ قَدَّمَ حِكَايَةً وَضَعَهَا فِي الرِّوَايَةِ عَلَى حِكَايَةِ اللِّعَانِ فَهَذِهِ قِصَّةُ عُوَيْمِرٍ الْعَجْلَانِيِّ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ فِي قِصَّةِ عُوَيْمِرٍ الْعَجْلَانِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاعَنَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ وَكَانَتْ حَامِلًا، وَرَوَى ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ هَذِهِ الْقِصَّةَ وَقَدَّمَ رِوَايَةَ اللِّعَانِ عَلَى حِكَايَةِ الْوَضْعِ نَحْوَ رِوَايَةِ الْجَمَاعَةِ إِلَّا أَنَّهُ تَرَكَ مِنْ إِسْنَادِهِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ.
قاسم بن محمد عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو لعان کرنے والوں کا تذکرہ کیا گیا تو عاصم بن عدی نے اس کے بارے میں ایک بات کہی، پھر وہ چلے گئے، پھر ان کی قوم کا ایک شخص ان کے پاس آیا اور ذکر کیا کہ اس نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پایا ہے۔ عاصم نے کہا: میں اس معاملے میں صرف اپنی بات کی وجہ سے آزمایا گیا ہوں۔ چنانچہ وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت کی خبر دی جس پر اس نے اپنی بیوی کو پایا تھا۔ اور یہ شخص زرد رنگ، کم گوشت، سیدھے بالوں والا تھا اور جس آدمی کے متعلق دعویٰ کیا، وہ گندم گوں رنگ، بھاری جسم، گھنگھریلے بالوں والا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! معاملے کو واضح فرما۔“ تو عورت نے اسی کے مثل بچے کو جنم دیا جس کی خاوند نے مشابہت ذکر کی تھی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان لعان کروایا تو مجلس میں ایک شخص نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: یہ وہ عورت تھی جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اگر میں کسی کو بغیر دلیل کے رجم کرتا تو یہ عورت تھی۔“ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نہیں، وہ تو ایک اور عورت تھی جو اسلام میں (رہتے ہوئے) برائی کو ظاہر کیا کرتی تھی۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان روایات سے وہم پیدا ہوتا ہے کہ لعان وضع حمل کے بعد کیا گیا اور یہ بھی احتمال ہے کہ بعض راویوں سے وضع حمل کی حکایت پہلے بیان کر دی گئی اور لعان کی بعد میں، یہ عویمر عجلانی کا قصہ ہے۔
(ب) زہری سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان لعان کروایا تو اس کی بیوی حاملہ تھی۔
ابن جریج نے یحییٰ بن سعید سے یہ قصہ روایت کیا ہے اور اس میں لعان کا ذکر وضع حمل کی حکایت سے پہلے کیا ہے، جیسا کہ جماعت کی روایت ہے، البتہ انہوں نے اس کی سند سے عبدالرحمن بن قاسم کو چھوڑ دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15348]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان روایات سے وہم پیدا ہوتا ہے کہ لعان وضع حمل کے بعد کیا گیا اور یہ بھی احتمال ہے کہ بعض راویوں سے وضع حمل کی حکایت پہلے بیان کر دی گئی اور لعان کی بعد میں، یہ عویمر عجلانی کا قصہ ہے۔
(ب) زہری سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان لعان کروایا تو اس کی بیوی حاملہ تھی۔
ابن جریج نے یحییٰ بن سعید سے یہ قصہ روایت کیا ہے اور اس میں لعان کا ذکر وضع حمل کی حکایت سے پہلے کیا ہے، جیسا کہ جماعت کی روایت ہے، البتہ انہوں نے اس کی سند سے عبدالرحمن بن قاسم کو چھوڑ دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15348]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 15348 in Urdu