🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3137. -- باب: اللعان على الحمل
-- باب: حمل پر لعان کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15349
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا" أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَاللهِ مَالِي عَهْدٌ بِأَهْلِي مُنْذُ عَفَارِ النَّخْلِ قَالَ: وَعَفَارُهَا أَنَّهَا إِذَا كَانَتْ تُؤَبَّرُ تُعْفَرُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا لَا تُسْقَى بَعْدَ الْإِبَّارِ قَالَ: فَوَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا قَالَ: وَكَانَ زَوْجُهَا مُصْفَرًّا حَمْشَ السَّاقَيْنِ سَبِطَ الشَّعْرِ وَالَّذِي رُمِيَتْ بِهِ خَدْلًا إِلَى ⦗٦٦٩⦘ السَّوَادِ جَعْدًا قَطَطًا مُسْتَهًا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُمَّ بَيِّنْ" ثُمَّ لَاعَنَ بَيْنَهُمَا فَجَاءَ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي رُمِيَتْ بِهِ" رَوَاهُ أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاعَنَ بَيْنَ الْعَجْلَانِيِّ وَامْرَأَتِهِ وَكَانَتْ حَامِلًا وَكَانَ الَّذِي رُمِيَتْ بِهِ ابْنَ السَّحْمَاءِ.
قاسم بن محمد، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میرا اپنی بیوی سے کوئی ملاپ نہیں ہوا، جب سے کھجور کو پہلی مرتبہ سیراب کیا گیا تھا،“ (راوی) فرماتے ہیں کہ «عَفَار» ”عفار“ یہ ہے کہ جب کھجوروں کی تابیر (گابھا لگانا) کی جاتی ہے تو چالیس دن تک انہیں پانی نہیں دیا جاتا، تابیر کے بعد انہیں سیراب نہیں کیا جاتا۔ اس شخص نے کہا: ”میں نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک شخص کو پایا،“ اور اس کا خاوند زرد رنگ، باریک پنڈلیوں اور سیدھے بالوں والا تھا، جبکہ وہ شخص جس کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی، وہ گہرے سیاہ رنگ اور گھنگھریالے بالوں والا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ بَيِّنْ» ”اے اللہ! معاملے کو واضح فرما۔“ پھر ان دونوں کے درمیان لعان کروایا گیا، تو اس عورت نے اس شخص کے مشابہ بچہ جنم دیا جس کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی۔ ابوالزناد، قاسم بن محمد سے اور وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عجلانی اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کروایا جبکہ وہ عورت حاملہ تھی اور جس شخص کے ساتھ اسے متہم کیا گیا تھا وہ ابن سحماء تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب اللعان/حدیث: 15349]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 15349 in Urdu