السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3147. -- باب: من قال الأقراء الحيض
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک ”اقراء“ سے مراد حیض ہے۔
حدیث نمبر: 15392
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي جَدِّي، نا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، اسْتُحِيضَتْ فَسَأَلْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سُئِلَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا" أَنْ تَدَعَ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا وَأَنْ تَغْتَسِلَ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ وَتَسْتَدْفِرَ بِثَوْبٍ وَتُصَلِّيَ" فَقِيلَ لِسُلَيْمَانَ: أَيَغْشَاهَا زَوْجُهَا؟ فَقَالَ: إِنَّمَا نَقُولُ فِيمَا سَمِعْنَا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْوَارِثِ وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ إِلَّا أَنَّهُمَا ذَكَرَا أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ اسْتَفْتَتْ لَهَا وَاحْتَجَّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ بِهَذِهِ الرِّوَايَةِ وَزَعَمَ أَنَّ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ رَوَاهُ عَنْ أَيُّوبَ هَكَذَا، قَالَ الشَّافِعِيُّ: مَا حَدَّثَ سُفْيَانُ بِهَذَا قَطُّ إِنَّمَا قَالَ سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَدَعُ الصَّلَاةَ عَدَدَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ" أَوْ قَالَ: أَيَّامَ أَقْرَائِهَا الشَّكُّ مِنْ أَيُّوبَ لَا يُدْرَى قَالَ هَذَا وَهَذَا، فَجَعَلَهُ هُوَ أَحَدَهُمَا عَلَى نَاحِيَةٍ مِمَّا يُرِيدُ وَلَيْسَ هَذَا بِصِدْقٍ.
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا مستحاضہ ہو گئیں، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا ان کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ”اپنے «قُرُوءٍ» (حیض) کے ایام میں نماز چھوڑ دیں اور اس کے علاوہ دنوں میں غسل کریں، کپڑے کے ساتھ لنگوٹ باندھیں اور نماز پڑھیں۔“ سلیمان رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ کیا ان کا خاوند ان سے جماع کر سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: بے شک ہم اس کے بارے میں وہی کہتے ہیں جو ہم نے سنا۔ اور اس کو اسی طرح عبدالوارث اور حماد بن زید رحمہما اللہ نے ایوب رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے مگر ان دونوں نے ذکر کیا ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان کے لیے فتویٰ طلب کیا اور ابراہیم بن اسماعیل بن علیہ رحمہ اللہ نے اسی حدیث کو دلیل بنایا ہے اور ان کا گمان یہ ہے کہ اس حدیث کو سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے ایوب رحمہ اللہ سے اسی طرح بیان کیا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سفیان نے اس کو کبھی بیان نہیں کیا۔
سفیان رحمہ اللہ ایوب رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں، وہ سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے اور وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دنوں اور راتوں کی تعداد میں نماز کو چھوڑ دو جن میں تو حائضہ ہوتی ہے“ یا کہا ”اپنے «قُرُوءٍ» کے دنوں میں“ (یہ شک ایوب کی طرف سے ہے، معلوم نہیں انہوں نے یہ کہا یا وہ)۔ تو انہوں نے (ابراہیم نے) ان دونوں میں سے ایک کو اپنی مرضی کی طرف کر لیا اور یہ درست نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15392]
سفیان رحمہ اللہ ایوب رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں، وہ سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے اور وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دنوں اور راتوں کی تعداد میں نماز کو چھوڑ دو جن میں تو حائضہ ہوتی ہے“ یا کہا ”اپنے «قُرُوءٍ» کے دنوں میں“ (یہ شک ایوب کی طرف سے ہے، معلوم نہیں انہوں نے یہ کہا یا وہ)۔ تو انہوں نے (ابراہیم نے) ان دونوں میں سے ایک کو اپنی مرضی کی طرف کر لیا اور یہ درست نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15392]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 15392 in Urdu