السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3147. -- باب: من قال الأقراء الحيض
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک ”اقراء“ سے مراد حیض ہے۔
حدیث نمبر: 15393
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا اسْتُحِيضَتْ فَسَأَلَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ" فَأَمَرَهَا أَنْ" تَدَعَ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا وَأَيَّامَ حَيْضِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلَ وَتُصَلِّيَ فَإِنْ غَلَبَهَا الدَّمُ اسْتَدْفَرَتْ" كَذَا وَجَدْتُ وَالصَّوَابُ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا أَوْ أَيَّامَ حَيْضِهَا بِالشَّكِّ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ وُهَيْبٌ عَنْ أَيُّوبَ وَرَوَاهُ أَبُو عُبَيْدِ اللهِ الْمَخْزُومِيُّ عَنْ سُفْيَانَ فَقَالَ لِتَنْظُرْ عِدَّةَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ وَقَدْرَهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ فَلْتَتْرُكِ الصَّلَاةَ، كَذَلِكَ كَمَا رَوَاهُ نَافِعٌ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَنَافِعٌ أَحْفَظُ عَنْ سُلَيْمَانَ مِنْ أَيُّوبَ وَهُوَ يَقُولُ: مِثْلُ أَحَدِ مَعْنَيَيْ أَيُّوبَ اللَّذَيْنِ رَوَاهُمَا قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا اللَّفْظُ الَّذِي احْتَجُّوا بِهِ فِي أَحَادِيثَ ذَكَرْنَاهَا فِي كِتَابِ الْحَيْضِ وَتِلْكَ الْأَحَادِيثُ فِي نَفْسِهَا مُخْتَلَفٌ فِيهَا فَبَعْضُ الرُّوَاةِ قَالَ: فِيهَا أَيَّامُ أَقْرَائِهَا وَبَعْضُهُمْ قَالَ: فِيهَا أَيَّامُ حَيْضِهَا أَوْ مَا فِي مَعْنَاهُ وَكُلُّ ذَلِكَ مِنْ جِهَةِ الرُّوَاةِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ يُعَبِّرُ عَنْهُ بِمَا يَقَعُ لَهُ وَالْأَحَادِيثُ الصِّحَاحُ مُتَّفِقَةٌ عَلَى الْعِبَارَةِ عَنْهُ بِأَيَّامِ الْحَيْضِ دُونَ لَفْظِ الْأَقْرَاءِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش مستحاضہ ہو گئی، اس کے لیے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں ہے، وہ تو رگ ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو حکم دیا کہ وہ اپنے قروء یا اپنے حیض کے دنوں میں نماز کو چھوڑ دے۔ پھر وہ غسل کرے اور نماز پڑھے اور اگر خون کا غلبہ ہو تو لنگوٹ باندھ لے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ الفاظ جن سے انہوں نے دلیل لی ہے، ان احادیث میں مروی ہیں جنہیں ہم نے کتاب الحیض میں ذکر کیا ہے اور ان احادیث میں خود اختلاف ہے، بعض راویوں نے ان میں «أَيَّامُ أَقْرَائِهَا» کہا ہے اور بعض نے «أَيَّامُ حَيْضِهَا» یا اس کے ہم معنی الفاظ کہے ہیں، اور یہ سب راویوں کی طرف سے ہے، ہر ایک نے اسے اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے، اور صحیح احادیث اسے «أَيَّامُ الْحَيْضِ» (حیض کے دنوں) سے تعبیر کرنے پر متفق ہیں نہ کہ «الْأَقْرَاءِ» کے لفظ سے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15393]
شیخ فرماتے ہیں: یہ الفاظ جن سے انہوں نے دلیل لی ہے، ان احادیث میں مروی ہیں جنہیں ہم نے کتاب الحیض میں ذکر کیا ہے اور ان احادیث میں خود اختلاف ہے، بعض راویوں نے ان میں «أَيَّامُ أَقْرَائِهَا» کہا ہے اور بعض نے «أَيَّامُ حَيْضِهَا» یا اس کے ہم معنی الفاظ کہے ہیں، اور یہ سب راویوں کی طرف سے ہے، ہر ایک نے اسے اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے، اور صحیح احادیث اسے «أَيَّامُ الْحَيْضِ» (حیض کے دنوں) سے تعبیر کرنے پر متفق ہیں نہ کہ «الْأَقْرَاءِ» کے لفظ سے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العدد/حدیث: 15393]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 15393 in Urdu