السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. -- باب تأكيد السواك عند القيام إلى الصلاة
-- باب: نماز کے لیے کھڑے ہوتے وقت مسواک کی تاکید کا بیان
حدیث نمبر: 158
حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو النَّضْرِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى اللَّخْمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتَ تَوَضِّي ابْنِ عُمَرَ لِكُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا أَوْ غَيْرَ طَاهِرٍ عَمَّ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: حَدَّثَتْنِيهِ أَسْمَاءُ بِنْتُ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي عَامِرٍ، حَدَّثَهَا" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِالْوُضُوءِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا أَوْ غَيْرَ طَاهِرٍ، فَلَمَّا شَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَمَرَ بِالسِّوَاكِ لِكُلِّ صَلَاةٍ"، فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَرَى أَنَّ بِهِ قُوَّةً، فَكَانَ لَا يَدَعُ الْوُضُوءَ لِكُلِّ صَلَاةٍ. لَفْظُ حَدِيثِ أَحْمَدَ بْنِ خَالِدٍ الْوَهْبِيِّ، وَقَالَ سَعِيدٌ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: فَلَمَّا شَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ رَوَاهُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ. قَالَ: عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ.
محمد بن یحییٰ بن حبان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے صاحبزادے عبداللہ (رحمہ اللہ) سے پوچھا: مجھے بتائیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے چاہے وضو ہوتا یا نہ، وہ ایسا کیوں کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: مجھ کو اسماء بنت زید بن خطاب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ عبداللہ بن حنظلہ بن ابی عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا حکم دیا گیا ہے، چاہے آپ کا وضو ہو یا نہ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ مشکل ہو گیا تو آپ کو ہر نماز کے لیے مسواک کا حکم دے دیا گیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما یہ خیال کرتے تھے کہ ان میں طاقت ہے اس لیے ہر نماز کے لیے وضو کو نہیں چھوڑتے تھے۔
(ب) سعید کہتے ہیں کہ عبیداللہ بن عبداللہ والی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”جب یہ ان پر مشکل ہو گیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 158]
(ب) سعید کہتے ہیں کہ عبیداللہ بن عبداللہ والی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”جب یہ ان پر مشکل ہو گیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 158]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابو داؤد 48»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 158 in Urdu