السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. -- باب تأكيد السواك عند القيام إلى الصلاة
-- باب: نماز کے لیے کھڑے ہوتے وقت مسواک کی تاکید کا بیان
حدیث نمبر: 154
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَبَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، وَالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ. وَفِي حَدِيثِ مَالِكٍ:" أَوْ عَلَى النَّاسِ لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ". لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِ. وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ وَقَالَ: لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ كُلِّ صَلَاةٍ. وَأَكْثَرُ النَّاسِ لَمْ يَذْكُرُوا ذَلِكَ، عَنْ مَالِكٍ. رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، بِمِثْلِ رِوَايَةِ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ عَنْهُ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
(الف) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اپنی امت پر مشقت نہ سمجھتا تو میں ان کو عشا کی نماز مؤخر کرنے اور ہر نماز کے لیے مسواک کا حکم دیتا۔“
(ج) مالک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ان کو ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 154]
(ج) مالک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ان کو ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 154]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 155
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، أنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ثنا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ كُلِّ صَلَاةٍ". وَقِيلَ: عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اپنی امت پر مشقت نہ سمجھتا تو میں ان کو ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 155]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري بهذا للفظ 847»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 156
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ". قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَرَأَيْتُ زَيْدًا يَجْلِسُ فِي ⦗٦١⦘ الْمَسْجِدِ، وَإِنَّ السِّوَاكَ مِنْ أُذُنِهِ مَوْضِعَ الْقَلَمِ مِنْ أُذُنِ الْكَاتِبِ. فَكُلَّمَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ اسْتَاكَ. وَبَلَغَنِي عَنِ الْبُخَارِيِّ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: حَدِيثُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَصَحُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: كِلَاهُمَا عِنْدِي صَحِيحٌ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ وَقَعَ آخِرٌ هَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ بِإِسْنَادٍ لَهُ آخَرَ.
(الف) سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اگر میں امت پر مشقت نہ سمجھتا تو ان کو ہر نماز کے لیے مسواک کا حکم دیتا۔“
(ب) ابو سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور مسواک ان کے کان پر ایسے تھی، جیسے کاتب اپنے کان پر قلم کو رکھتا ہے، جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو مسواک کرتے۔
مجھے امام بخاری رحمہ اللہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ وہ فرماتے تھے: ابو سلمہ کی زید بن خالد سے روایت زیادہ صحیح ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے نزدیک دونوں صحیح ہیں۔
شیخ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کا آخری حصہ محمد بن اسحاق بن یسار رحمہ اللہ سے دوسری سند سے منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 156]
(ب) ابو سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور مسواک ان کے کان پر ایسے تھی، جیسے کاتب اپنے کان پر قلم کو رکھتا ہے، جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو مسواک کرتے۔
مجھے امام بخاری رحمہ اللہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ وہ فرماتے تھے: ابو سلمہ کی زید بن خالد سے روایت زیادہ صحیح ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے نزدیک دونوں صحیح ہیں۔
شیخ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کا آخری حصہ محمد بن اسحاق بن یسار رحمہ اللہ سے دوسری سند سے منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 156]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 157
أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كَانَ السِّوَاكُ مِنْ أُذُنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْضِعَ الْقَلَمِ مِنْ أُذُنِ الْكَاتِبِ". قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: رَوَاهُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ سُفْيَانُ. وَلَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُفْيَانَ إِلَّا يَحْيَى. قَالَ الشَّيْخُ: وَيَحْيَى بْنُ يَمَانٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ عِنْدَهُمْ. وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ غَلِطَ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْأَوَّلِ إِلَى هَذَا.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مسواک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کان پر ایسے ہوتی تھی جیسے کاتب کے کان پر قلم ہوتا ہے۔
(ب) ابو القاسم (طبرانی) کہتے ہیں کہ اسے سفیان سے صرف یحییٰ نے روایت کیا ہے۔ شیخ کہتے ہیں کہ یحییٰ بن یمان محدثین کے نزدیک قوی نہیں۔ اور لگتا ہے کہ انہیں غلطی لگی ہے اور انہوں نے محمد بن اسحاق کی پہلی حدیث کو اس روایت کی طرف منتقل کر دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 157]
(ب) ابو القاسم (طبرانی) کہتے ہیں کہ اسے سفیان سے صرف یحییٰ نے روایت کیا ہے۔ شیخ کہتے ہیں کہ یحییٰ بن یمان محدثین کے نزدیک قوی نہیں۔ اور لگتا ہے کہ انہیں غلطی لگی ہے اور انہوں نے محمد بن اسحاق کی پہلی حدیث کو اس روایت کی طرف منتقل کر دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 157]
تخریج الحدیث: «منكر۔ ذكر الحافظ في التلخيص 1/71»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 158
حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو النَّضْرِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى اللَّخْمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتَ تَوَضِّي ابْنِ عُمَرَ لِكُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا أَوْ غَيْرَ طَاهِرٍ عَمَّ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: حَدَّثَتْنِيهِ أَسْمَاءُ بِنْتُ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي عَامِرٍ، حَدَّثَهَا" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِالْوُضُوءِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ طَاهِرًا أَوْ غَيْرَ طَاهِرٍ، فَلَمَّا شَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَمَرَ بِالسِّوَاكِ لِكُلِّ صَلَاةٍ"، فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَرَى أَنَّ بِهِ قُوَّةً، فَكَانَ لَا يَدَعُ الْوُضُوءَ لِكُلِّ صَلَاةٍ. لَفْظُ حَدِيثِ أَحْمَدَ بْنِ خَالِدٍ الْوَهْبِيِّ، وَقَالَ سَعِيدٌ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: فَلَمَّا شَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ رَوَاهُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ. قَالَ: عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ.
محمد بن یحییٰ بن حبان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے صاحبزادے عبداللہ (رحمہ اللہ) سے پوچھا: مجھے بتائیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے چاہے وضو ہوتا یا نہ، وہ ایسا کیوں کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: مجھ کو اسماء بنت زید بن خطاب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ عبداللہ بن حنظلہ بن ابی عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا حکم دیا گیا ہے، چاہے آپ کا وضو ہو یا نہ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ مشکل ہو گیا تو آپ کو ہر نماز کے لیے مسواک کا حکم دے دیا گیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما یہ خیال کرتے تھے کہ ان میں طاقت ہے اس لیے ہر نماز کے لیے وضو کو نہیں چھوڑتے تھے۔
(ب) سعید کہتے ہیں کہ عبیداللہ بن عبداللہ والی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”جب یہ ان پر مشکل ہو گیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 158]
(ب) سعید کہتے ہیں کہ عبیداللہ بن عبداللہ والی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”جب یہ ان پر مشکل ہو گیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 158]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابو داؤد 48»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 159
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا ⦗٦٢⦘ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: ذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَفْضُلُ الصَّلَاةُ الَّتِي يُسْتَاكُ لَهَا عَلَى الصَّلَاةِ الَّتِي لَا يُسْتَاكُ لَهَا سَبْعِينَ ضِعْفًا". وَهَذَا الْحَدِيثُ أَحَدُ مَا يُخَافُ أَنْ يَكُونَ مِنْ تَدْلِيسَاتِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، وَأَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ وَقَدْ رَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ. وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَمِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ فَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نماز جس کے لیے مسواک کی جائے، اس نماز پر ستر درجے فضیلت رکھتی ہے جس کے لیے مسواک نہ کی جائے۔“ (یہ حدیث ان احادیث میں سے ایک ہے جن کے متعلق خدشہ ہے کہ وہ محمد بن اسحاق بن یسار کی تدلیسات میں سے ہیں اور ان کا امام زہری سے سماع ثابت نہیں ہے۔)
اسے معاویہ بن یحییٰ صدفی نے بھی زہری سے روایت کیا ہے، لیکن وہ قوی نہیں ہیں۔ یہ روایت ایک اور طریق سے عروہ عن عائشہ اور ایک اور طریق سے عمرہ عن عائشہ بھی مروی ہے، اور یہ دونوں ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 159]
اسے معاویہ بن یحییٰ صدفی نے بھی زہری سے روایت کیا ہے، لیکن وہ قوی نہیں ہیں۔ یہ روایت ایک اور طریق سے عروہ عن عائشہ اور ایک اور طریق سے عمرہ عن عائشہ بھی مروی ہے، اور یہ دونوں ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 159]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه احمد 6/272»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 160
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ، ثنا الْوَاقِدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَحْيَى الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الرَّكْعَتَانِ بَعْدَ السِّوَاكِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ سَبْعِينَ رَكْعَةٍ قَبْلَ السِّوَاكِ" الْوَاقِدِيُّ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَرُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الطَّرِيقِ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسواک کے بعد دو رکعتیں پڑھنا مجھ کو ستر رکعت پڑھنے سے زیادہ محبوب ہیں جو مسواک کرنے سے پہلے پڑھی جائیں۔“
(ب) واقدی قابل حجت نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 160]
(ب) واقدی قابل حجت نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 160]
تخریج الحدیث: «موضوع»
الحكم على الحديث: موضوع
حدیث نمبر: 161
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنا أَبُو الْفَضْلِ الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ وَهْبَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ السُّلَمِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ قِيرَاطٍ، ثنا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةُ سِوَاكٍ خَيْرٌ مِنْ سَبْعِينَ صَلَاةٍ بِغَيْرِ سِوَاكٍ". فَهَذَا إِسْنَادٌ غَيْرُ قَوِيٍّ. وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ مَرْفُوعًا مُرْسَلًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسواک کے ساتھ نماز پڑھنا بغیر مسواک کے نماز پڑھنے سے ستر گنا زیادہ ہے۔“
یہ سند قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 161]
یہ سند قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 161]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه تمام في فوالده 248»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 162
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ، وَأَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، قَالَا: أنا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمَجْدَ آبَادِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أُمِرْنَا بِالسِّوَاكِ. وَقَالَ:" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي أَتَاهُ الْمَلَكُ فَقَامَ خَلْفَهُ يَسْتَمِعُ الْقُرْآنَ وَيَدْنُو، فَلَا يَزَالُ يَسْتَمِعُ وَيَدْنُو حَتَّى يَضَعَ فَاهُ عَلَى فِيهِ، فَلَا يَقْرَأُ آيَةً إِلَّا كَانَتْ فِي جَوْفِ الْمَلَكِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم کو مسواک کا حکم دیا گیا اور انہوں نے فرمایا: ”جب بندہ نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے پاس فرشتہ آتا ہے جو اس کے پیچھے کھڑا ہو جاتا ہے، وہ قرآن سنتا ہے اور قریب ہو جاتا ہے، وہ سنتا رہتا ہے اور قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ اپنا منہ اس کے منہ پر رکھ لیتا ہے، پھر وہ جو بھی آیت پڑھتا ہے وہ فرشتے کے پیٹ میں چلی جاتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 162]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البزاء 603»
الحكم على الحديث: صحيح