السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3224. جماع أبواب تحريم القتل ومن يجب عليه القصاص ومن لا قصاص عليه -- باب: أصل تحريم القتل في القرآن
قتل کی حرمت، اور جن پر قصاص واجب ہوتا ہے اور جن پر نہیں ہوتا، ان کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: قرآن مجید میں قتل کی حرمت کی اصل کا بیان۔
حدیث نمبر: 15832
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْبُشَيْرِيُّ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الضَّبِّيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ:" كَانَ أَهْلُ الْعِلْمِ إِذَا سُئِلُوا قَالُوا: لَا تَوْبَةَ لَهُ. وَإِذَا ابْتُلِيَ رَجُلٌ قَالُوا لَهُ: تُبْ".
سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب اہل علم سے اس بارے میں سوال پوچھو تو وہ جواب دیتے ہیں کہ اس کی کوئی توبہ نہیں، اور جب کسی شخص سے قتل ہو جاتا ہے تو پھر اسے کہتے ہیں کہ توبہ کر لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15832]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 15832 in Urdu