السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3224. جماع أبواب تحريم القتل ومن يجب عليه القصاص ومن لا قصاص عليه -- باب: أصل تحريم القتل في القرآن
قتل کی حرمت، اور جن پر قصاص واجب ہوتا ہے اور جن پر نہیں ہوتا، ان کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: قرآن مجید میں قتل کی حرمت کی اصل کا بیان۔
حدیث نمبر: 15833
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا سَعِيدٌ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ كَرْدَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: مَلَأْتُ ⦗٣١⦘ حَوْضِي أنْتَظِرُ بَهِيمَتِي تَرِدُ عَلَيَّ، فَلَمْ أَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِرَجُلٍ قَدْ أَشْرَعَ نَاقَتَهُ، وَثَلَمَ الْحَوْضَ وَسَالَ الْمَاءُ، فَقُمْتُ فَزِعًا فَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ فَقَتَلْتُهُ، فَقَالَ: لَيْسَ هَذَا مِثْلَ الَّذِي. قَالَ: فَأَمَرَهُ بِالتَّوْبَةِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: میں نے اپنا حوض اپنے جانوروں کے لیے بھرا کہ انہیں پانی پلاؤں گا، ایک شخص کی اونٹنی آئی اور اس نے میرے حوض میں شگاف ڈال دیا اور سارا پانی بہہ گیا۔ میں جلدی سے اٹھا اور غصے میں اونٹنی کے مالک کو تلوار سے قتل کر دیا، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ جان بوجھ کر قتل کرنا نہیں ہے اور اسے توبہ کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النفقات/حدیث: 15833]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 15833 in Urdu