السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3238. -- باب: ما روي فيمن قتل عبده أو مثل به
-- باب: اس شخص کے بارے میں مروی روایات کا بیان جس نے اپنے غلام کو قتل کیا یا اس کا مثلہ کیا (اعضاء کاٹے)۔
حدیث نمبر: 15950
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: كَانَ لِزِنْبَاعٍ عَبْدٌ يُسَمَّى سَنْدَرًا أَوِ ابْنَ سَنْدَرٍ، فَوَجَدَهُ يُقَبِّلُ جَارِيَةً لَهُ، فَأَخَذَهُ فجَبَّهُ وَجَدَعَ أُذُنَيْهِ وَأَنْفَهُ، فَأَتَى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَى زِنْبَاعٍ فَقَالَ:" لَا تُحَمِّلُوهُمْ مَا لَا يُطِيقُونَ، وَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ، وَاكْسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ، وَمَا كَرِهْتُمْ فَبِيعُوا، وَمَا رَضِيتُمْ فَأَمْسِكُوا، وَلَا تُعَذِّبُوا خَلْقَ اللهِ". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ مُثِّلَ بِهِ أَوْ حُرِّقَ بِالنَّارِ فَهُوَ حُرٌّ، وَهُوَ مَوْلَى اللهِ وَرَسُولِهِ"، فَأَعْتَقَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَوْصِ بِي. فَقَالَ:" أُوصِي بِكَ كُلَّ مُسْلِمٍ" الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَقَدْ رَوَى عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرٍو مُخْتَصِرًا، وَلَا يُحْتَجُّ بِهِ. وَرَوَى عَنْ سَوَّارٍ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ عَمْرٍو، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ. وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ زنباع کا ایک غلام تھا جس کا نام سندر یا ابن سندر تھا۔ زنباع نے اسے اپنی ایک لونڈی کے ساتھ بوس و کنار کرتے ہوئے پایا تو اسے پکڑ کر خصی کر دیا اور اس کے کان اور ناک کاٹ دیے۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زنباع کو بلا بھیجا اور فرمایا: ”جس کی یہ طاقت نہیں رکھتے اس کا بوجھ ان پر نہ ڈالو، اپنے کھانے سے انہیں بھی کھلاؤ، اپنے جیسے کپڑے انہیں پہناؤ۔ اگر غلام نہ پسند ہو تو بیچ دو، اچھا لگے تو رکھ لو اور اللہ کی مخلوق کو عذاب نہ دو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا مثلہ کیا گیا ہو یا آگ سے جلایا گیا ہو وہ آزاد ہے، اور وہ اللہ اور اس کے رسول کا آزاد کردہ (مولیٰ) ہے۔“ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آزاد کر دیا۔ اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میرے بارے میں وصیت فرما دیجیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے بارے میں ہر مسلمان کو وصیت کرتا ہوں۔“
المثنی بن الصباح ضعیف ہے، اس سے حجت نہیں پکڑی جاتی۔ یہ روایت حجاج بن ارطاۃ کے واسطے سے عمرو سے مختصراً بھی مروی ہے، اور اس سے بھی حجت نہیں پکڑی جاتی، اور سوار ابو حمزہ کے واسطے سے عمرو سے بھی مروی ہے، اور وہ قوی نہیں۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15950]
المثنی بن الصباح ضعیف ہے، اس سے حجت نہیں پکڑی جاتی۔ یہ روایت حجاج بن ارطاۃ کے واسطے سے عمرو سے مختصراً بھی مروی ہے، اور اس سے بھی حجت نہیں پکڑی جاتی، اور سوار ابو حمزہ کے واسطے سے عمرو سے بھی مروی ہے، اور وہ قوی نہیں۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 15950]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 15950 in Urdu