🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3252. -- باب: ما جاء في قتل الإمام وجرحه
-- باب: امام (حکمران) کو قتل کرنے یا اسے زخمی کرنے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16022
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ ⦗٨٨⦘ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا جَهْمِ بْنَ حُذَيْفَةَ مُصَدِّقًا فَلَاجَّهُ رَجُلٌ فِي صَدَقَةٍ فَضَرَبَهُ أَبُو جَهْمٍ فَشَجَّهُ، فَأَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: الْقَوَدَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَكُمْ كَذَا وَكَذَا"، فَلَمْ يَرْضَوْا، فَقَالَ:" لَكُمْ كَذَا وَكَذَا"، فَلَمْ يَرْضَوْا، فَقَالَ:" لَكُمْ كَذَا وَكَذَا"، فَرَضُوا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي خَاطِبٌ الْعَشِيَّةَ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ" فَقَالُوا: نَعَمْ فَخَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنَّ هَؤُلَاءِ اللَّيْثِيِّينَ أَتَوْنِي يُرِيدُونَ الْقَوَدَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِمْ كَذَا وَكَذَا فَرَضُوا، أَفَرَضِيتُمْ؟" قَالُوا: لَا، فَهَمَّ الْمُهَاجِرُونَ بِهِمْ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُفُّوا عَنْهُمْ، فَكَفُّوا عَنْهُمْ، ثُمَّ دَعَاهُمْ فَزَادَهُمْ فَقَالَ:" أَرَضِيتُمْ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" إِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ"، قَالُوا: نَعَمْ فَخَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَرَضِيتُمْ؟"، قَالُوا: نَعَمْ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جہم کو صدقہ لینے کے لیے بھیجا۔ ایک شخص نے کچھ حیل و حجت کی تو ابو جہم نے اسے مارا اور زخمی کر دیا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور قصاص کا مطالبہ کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ یہ لے لو۔“ وہ نہ مانے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ یہ بھی لے لو۔“ وہ پھر بھی نہ مانے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ یہ بھی لے لو۔“ تو وہ راضی ہو گئے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں شام کو لوگوں کو خطبہ دوں گا اور تمہاری رضا مندی کے بارے میں انہیں بتا دوں گا۔“ انہوں نے کہا: ”ٹھیک ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کو خطبہ دیا اور فرمایا: ”یہ لیثی لوگ میرے پاس قصاص کے لیے آئے تھے، میں نے انہیں اس اس کی پیش کش کی تو یہ راضی ہو گئے، کیا تم راضی ہو؟“ انہوں نے جواب دیا: ”نہیں۔“ تو مہاجرین نے ان (پر حملہ کرنے) کا ارادہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ان سے رک جائیں، تو وہ رک گئے۔ پھر انہیں بلایا اور زیادہ دیا تو وہ راضی ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر شام کو خطبہ ارشاد فرمایا اور انہیں ان کی رضا مندی کی اطلاع دی اور پوچھا: ”کیا تم راضی ہو؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں، ہم راضی ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16022]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16022 in Urdu