🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3252. -- باب: ما جاء في قتل الإمام وجرحه
-- باب: امام (حکمران) کو قتل کرنے یا اسے زخمی کرنے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16017
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا أَبُو صَالِحٍ يَعْنِي مَحْبُوبَ بْنَ مُوسَى، ثنا الْفَزَارِيُّ يَعْنِي أَبَا إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ، قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ:" أَلَا وَإِنِّي لَمْ أَبْعَثْ إِلَيْكُمْ عُمَّالِي لِيَضْرِبُوا أَبْشَارَكُمْ، وَلَا لِيَأْخُذُوا أَمْوَالَكُمْ، وَلَكِنْ بَعَثْتُهُمْ لِيُعَلِّمُوكُمْ دِينَكُمْ وَسُنَنَكُمْ، فَمَنْ فُعِلَ بِهِ غَيْرُ ذَلِكَ فَلْيَرْفَعْهُ إِلِيَّ فَأُقِصَّهُ مِنْهُ فَقَامَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَدَّبَ بَعْضَ رَعِيَّتِهِ أَكُنْتَ مُقْتَصَّهُ مِنْهُ؟ فَقَالَ: إِي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأُقِصَّنَّهُ مِنْهُ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَصَّ مِنْ نَفْسِهِ.
ابو فراس فرماتے ہیں کہ ہمیں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور فرمایا: ”لوگو! میں نے اپنے عمال کو تمہاری طرف اس لیے نہیں بھیجا کہ وہ تمہاری کھالوں پر ماریں اور نہ اس لیے کہ تمہارا مال چھین لیں، بلکہ میں نے انہیں اس لیے بھیجا ہے کہ وہ تمہیں تمہارا دین اور تمہاری سنتیں سکھائیں۔ جس کے ساتھ اس کے علاوہ کوئی سلوک کیا گیا ہو تو وہ اسے میرے پاس لائے، میں اسے اس سے قصاص دلواؤں گا۔“ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے: ”اے امیر المؤمنین! اگر کوئی اپنی رعایا کو ادب سکھانے کے لیے مارے تو کیا اس سے قصاص لیا جائے گا؟“ فرمایا: ”ہاں، اللہ کی قسم! میں اس سے قصاص لوں گا؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنے آپ سے قصاص دیا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16017]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16018
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قِرَاءَةً عَلَيْهِمَا، وَأَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ السِّرَاجُ إِمْلَاءً، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ مُسَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقْسِمُ شَيْئًا أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ، فَطَعَنَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُرْجُونٍ كَانَ مَعَهُ فَجُرِحَ الرَّجُلُ، فَقَالَ لَهُ ⦗٨٧⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَعَالَ فَاسْتَقِدْ" فَقَالَ: بَلْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللهِ.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے اور آپ کچھ اشیاء تقسیم کر رہے تھے، تو ایک آدمی آیا اور وہ جلد بازی کرنے لگا تو آپ نے اپنے کھجور کے ڈنڈے سے اسے مارا، جس سے اسے زخم لگ گیا، تو آپ نے فرمایا: ”قصاص لے لو۔“ تو وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں نے معاف کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16018]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16019
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، وَغَيْرِهِ أَخْبَرُوهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا مُتَخَلِّقًا فَطَعَنَهُ بِقَدَحٍ كَانَ فِي يَدِهِ ثُمَّ قَالَ:" أَلَمْ أَنْهَكُمْ عَنْ مِثْلِ هَذَا؟" فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ اللهَ قَدْ بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، وَإِنَّكَ قَدْ عَقَرْتَنِي فَأَلْقَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَدَحَ فَقَالَ لَهُ:" اسْتَقِدْ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّكَ طَعَنْتَنِي وَلَيْسَ عَلَيَّ ثَوْبٌ، وَعَلَيْكَ قَمِيصٌ، فَكَشَفَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَطْنِهِ، فَأَكَبَّ عَلَيْهِ الرَّجُلُ فَقَبَّلَهُ هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا.
ابو النضر اور ان کے دوسرے اصحاب رحمہم اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جس نے زعفران کی خوشبو لگائی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک لکڑی سے مارا اور فرمایا: ”کیا میں نے تمہیں اس سے منع نہیں کیا تھا؟“ وہ شخص کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اور آپ نے مجھے زخم پہنچایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لکڑی اسے دی اور فرمایا: ”قصاص لے لو۔“ وہ شخص کہنے لگا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھے مارا تھا مجھ پر کپڑا نہیں تھا اور آپ پر قمیص ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ سے اپنا کپڑا ہٹا لیا تو وہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چمٹ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بوسہ لیا۔
یہ روایت منقطع ہے، اور یہ موصولاً بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16019]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16020
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، ثنا أَبِي، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَوَادُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا مُتَخَلِّقٌ بِخَلُوقٍ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ لِي:" يَا سَوَادُ بْنَ عَمْرٍو وخَلُوقُ وَرْسٍ، أَوَ لَمْ أَنْهَ عَنِ الْخَلُوقِ؟"، وَنَخَسَنِي بِقَضِيبٍ فِي يَدِهِ فِي بَطْنِي فَأَوْجَعَنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ الْقِصَاصَ قَالَ:" الْقِصَاصَ" فَكَشَفَ لِي عَنْ بَطْنِهِ فَجَعَلْتُ أُقَبِّلُهُ، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَدَعُهُ شَفَاعَةً لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَابَعَهُ عُمَرُ بْنُ سَلِيطٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَوَادِ بْنِ عَمْرٍو.
سیدنا سواد بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے خلوق (خوشبو) لگائی ہوئی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے سواد! کیا اس خلوق سے میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھڑی سے مارا جو آپ کے ہاتھ میں تھی تو میرا پیٹ زخمی ہو گیا، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! قصاص۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنا پیٹ کھول دیا تو میں آپ کے پیٹ پر بوسے لینے لگا، پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں قیامت کے دن آپ کی شفاعت چاہتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16020]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16021
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ السَّعْدِيُّ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ رَجُلًا ضَاحِكًا مَلِيحًا قَالَ: فَبَيْنَمَا هُوَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ وَيُضْحِكُهُمْ فَطَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُصْبُعِهِ فِي خَاصِرَتِهِ، فَقَالَ: أَوْجَعْتَنِي، قَالَ:" اقْتَصَّ" قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عَلَيْكَ قَمِيصًا، وَلَمْ يَكُنْ عَلَيَّ قَمِيصٌ، قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَهُ فَاحْتَضَنَهُ، ثُمَّ جَعَلَ يُقَبِّلُ كَشْحَهُ، فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ أَرَدْتُ هَذَا.
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ بڑے خوش طبع اور ہنس مکھ آدمی تھے۔ ایک مرتبہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے اور کسی قوم کے بارے میں باتیں کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنسا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پہلو میں انگلی ماری، تو وہ کہنے لگے: آپ نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قصاص لے لو۔“ تو وہ کہنے لگے: آپ نے قمیض پہنی ہوئی ہے اور مجھ پر قمیض نہیں ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیض اوپر اٹھائی تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسمِ اطہر سے چمٹ گئے اور اسے چومنے لگے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! میرا یہی ارادہ تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16021]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16022
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ ⦗٨٨⦘ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا جَهْمِ بْنَ حُذَيْفَةَ مُصَدِّقًا فَلَاجَّهُ رَجُلٌ فِي صَدَقَةٍ فَضَرَبَهُ أَبُو جَهْمٍ فَشَجَّهُ، فَأَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: الْقَوَدَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَكُمْ كَذَا وَكَذَا"، فَلَمْ يَرْضَوْا، فَقَالَ:" لَكُمْ كَذَا وَكَذَا"، فَلَمْ يَرْضَوْا، فَقَالَ:" لَكُمْ كَذَا وَكَذَا"، فَرَضُوا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي خَاطِبٌ الْعَشِيَّةَ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ" فَقَالُوا: نَعَمْ فَخَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنَّ هَؤُلَاءِ اللَّيْثِيِّينَ أَتَوْنِي يُرِيدُونَ الْقَوَدَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِمْ كَذَا وَكَذَا فَرَضُوا، أَفَرَضِيتُمْ؟" قَالُوا: لَا، فَهَمَّ الْمُهَاجِرُونَ بِهِمْ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُفُّوا عَنْهُمْ، فَكَفُّوا عَنْهُمْ، ثُمَّ دَعَاهُمْ فَزَادَهُمْ فَقَالَ:" أَرَضِيتُمْ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" إِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ"، قَالُوا: نَعَمْ فَخَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَرَضِيتُمْ؟"، قَالُوا: نَعَمْ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جہم کو صدقہ لینے کے لیے بھیجا۔ ایک شخص نے کچھ حیل و حجت کی تو ابو جہم نے اسے مارا اور زخمی کر دیا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور قصاص کا مطالبہ کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ یہ لے لو۔“ وہ نہ مانے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ یہ بھی لے لو۔“ وہ پھر بھی نہ مانے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ یہ بھی لے لو۔“ تو وہ راضی ہو گئے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں شام کو لوگوں کو خطبہ دوں گا اور تمہاری رضا مندی کے بارے میں انہیں بتا دوں گا۔“ انہوں نے کہا: ”ٹھیک ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کو خطبہ دیا اور فرمایا: ”یہ لیثی لوگ میرے پاس قصاص کے لیے آئے تھے، میں نے انہیں اس اس کی پیش کش کی تو یہ راضی ہو گئے، کیا تم راضی ہو؟“ انہوں نے جواب دیا: ”نہیں۔“ تو مہاجرین نے ان (پر حملہ کرنے) کا ارادہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ان سے رک جائیں، تو وہ رک گئے۔ پھر انہیں بلایا اور زیادہ دیا تو وہ راضی ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر شام کو خطبہ ارشاد فرمایا اور انہیں ان کی رضا مندی کی اطلاع دی اور پوچھا: ”کیا تم راضی ہو؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں، ہم راضی ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16022]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16023
خَالَفَهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ، فَرَوَاهُ كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ أَبَا جَهْمٍ عَلَى صَدَقَةٍ فَضَرَبَ رَجُلًا مِنْ بَنِي لَيْثٍ فَشَجَّهُ ذَا الْمُغَلَّظَتَيْنِ، فَسَأَلُوهُ الْقَوَدَ، فَأَرْضَاهُمْ وَلَمْ يُقِدْ مِنْهُ.
ابن شہاب زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جہم رضی اللہ عنہ کو صدقہ پر عامل بنایا، تو انہوں نے بنو لیث کے ایک آدمی کو مارا اور اسے سخت زخمی کر دیا، تو انہوں نے قصاص کا مطالبہ کر دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیت پر راضی کر لیا اور قصاص نہیں لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16023]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16024
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَجُلٌ أَسْوَدُ يَأْتِي أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَيُدْنِيهِ وَيُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ، حَتَّى بَعَثَ سَاعِيًا، أَوْ قَالَ: سَرِيَّةً، فَقَالَ: أَرْسِلْنِي مَعَهُ، قَالَ: بَلْ تَمْكُثُ عِنْدَنَا فَأَتَى فَأَرْسَلَهُ مَعَهُ وَاسْتَوْصَى بِهِ خَيْرًا، فَلَمْ يَغْبُرْ عَنْهُ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى جَاءَ قَدْ قُطِعَتْ يَدُهُ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَاضَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: مَا زِدْتُ عَلَى أَنَّهُ كَانَ يُوَلِّينِي شَيْئًا مِنْ عَمَلِهِ فَخُنْتُهُ فَرِيضَةً وَاحِدَةً، فَقَطَعَ يَدِي، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: تَجِدُونَ الَّذِي قَطَعَ هَذَا يَخُونُ أَكْثَرَ مِنْ عِشْرِينَ فَرِيضَةً، وَاللهِ لَئِنْ كُنْتَ صَادِقًا لَأُقِيدَنَّكَ بِهِ قَالَ: ثُمَّ أَدْنَاهُ، وَلَمْ يُحَوِّلْ مَنْزِلَتَهُ الَّتِي كَانَتْ لَهُ مِنْهُ، فَكَانَ الرَّجُلُ يَقُومُ اللَّيْلَ فَيَقْرَأُ، فَإِذَا سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَوْتَهُ قَالَ: يَا لَلَّهِ لِرَجُلٍ قَطَعَ هَذَا قَالَتْ: فَلَمْ يَغْبُرْ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى فَقَدَ آلُ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حُلِيًّا لَهُمْ وَمَتَاعًا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: طُرِقَ الْحِيُّ اللَّيْلَةَ فَقَامَ الْأَقْطَعُ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَرَفَعَ يَدَهُ الصَّحِيحَةَ وَالْأُخْرَى الَّتِي ⦗٨٩⦘ قُطِعَتْ فَقَالَ: اللهُمَّ أَظْهِرْ عَلَى مَنْ سَرَقَهُمْ أَوْ نَحْوَ هَذَا وَكَانَ مَعْمَرٌ رُبَّمَا قَالَ: اللهُمَّ أَظْهِرْ عَلَى مَنْ سَرَقَ أَهْلَ هَذَا الْبَيْتِ الصَّالِحِينَ قَالَ: فَمَا انْتَصَفَ النَّهَارُ حَتَّى عَثَرُوا عَلَى الْمَتَاعِ عِنْدَهُ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَيْلَكَ إِنَّكَ لَقَلِيلُ الْعِلْمِ بِاللهِ، فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَتْ رِجْلُهُ قَالَ مَعْمَرٌ: وأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: كَانَ إِذَا سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ صَوْتَهُ قَالَ: مَا لَيْلُكَ بِلَيْلِ سَارِقٍ وَالِاسْتِدْلَالُ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ وَقَعَ بِقَوْلِهِ: وَاللهِ لَئِنْ كُنْتَ صَادِقًا لَأُقِيدَنَّكَ بِهِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک سیاہ رنگ کا آدمی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آتا تھا، جو قرآن کا اچھا قاری تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے ایک سریہ میں بھیج دیا اور اسے خیر کی وصیت کی۔ ابھی کچھ عرصہ ہی گزرا تھا کہ وہ شخص واپس آ گیا اور اس کا ہاتھ کٹا ہوا تھا۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور پوچھا: تمہیں کیا ہو گیا؟ وہ کہنے لگا کہ مجھے کسی کام پر انہوں نے عامل بنا دیا تھا۔ میں نے اس میں سے تھوڑی سی خیانت کر دی تھی تو میرا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ ایک خیانت پر تیرا ہاتھ کاٹ دیا گیا اور خود ۲۰، ۲۰ خیانتیں کرتے ہیں۔ اگر تو اپنی بات میں سچا ہے تو میں تجھے اس سے ضرور قصاص لے کر دوں گا۔ پھر وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا قریبی بن گیا اور آپ کی نظر میں اس کی قدر میں کوئی کمی نہیں آئی۔ وہ آدمی رات کو قیام کرتا اور قرآن پڑھتا تھا۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی قرأت سنی تو کہنے لگے: ہائے افسوس! اس آدمی کا ہاتھ کاٹا گیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ابھی کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر سے کچھ زیورات اور سامان چوری ہو گیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رات کو گھر والوں پر (چوری کا) حملہ ہو گیا۔ تو وہ شخص کھڑا ہوا اور اپنا صحیح ہاتھ اور کٹا ہوا ہاتھ بلند کیا اور دعا کرنے لگا کہ اے اللہ! چور کو ظاہر فرما دے۔ ابھی آدھا دن بھی نہیں گزرا تھا کہ اس کے پاس سے سامان مل گیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: تو برباد ہو کہ کیا اللہ کے بارے میں تیرا علم اتنا تھوڑا ہے؟ اور حکم دیا اور اس کا پاؤں کاٹ دیا گیا۔
معمر کہتے ہیں کہ مجھے ایوب نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے طریق سے بیان کیا کہ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی آواز کو سنا تو فرمایا: تیری رات چور کی رات نہیں ہے۔ اور اس حدیث میں جو محل استشہاد ہے وہ یہ ہے کہ آپ نے فرمایا تھا کہ اگر تو اپنی بات میں سچا ہے تو میں تجھے قصاص لے کر دوں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16024]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16025
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَسَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ عَبْدِ اللهِ الْمَعَافِرِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَامَ يَوْمَ جُمُعَةٍ فَقَالَ:" إِذَا كَانَ بِالْغَدَاةِ فَاحْضُرُوا صَدَقَاتِ الْإِبِلِ تُقْسَمُ، وَلَا يَدْخُلْ عَلَيْنَا أَحَدٌ إِلَّا بِإِذْنٍ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ لِزَوْجِهَا: خُذْ هَذَا الْخِطَامَ لَعَلَّ اللهَ يَرْزُقُنَا جَمَلًا، فَأَبَى الرَّجُلُ فَوَجَدَ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْا قَدْ دَخَلُوا إِلَى الْإِبِلِ فَدَخَلَ مَعَهُمَا، فَالْتَفَتَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: مَا أَدْخَلَكَ عَلَيْنَا؟ ثُمَّ أَخَذَ مِنْهُ الْخِطَامَ فَضَرَبَهُ، فَلَمَّا فَرَغَ أَبُو بَكْرٍ مِنْ قَسْمِ الْإِبِلِ دَعَا بِالرَّجُلِ فَأَعْطَاهُ الْخِطَامَ وَقَالَ: اسْتَقِدْ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: وَاللهِ لَا يَسْتَقِيدُ، لَا تَجْعَلْهَا سُنَّةً قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَمَنْ لِي مِنَ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَرْضِهِ فَأَمَرَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ غُلَامَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ بِرَاحِلَتِهِ وَرَحْلِهَا وَقَطِيفَةٍ وَخَمْسَةِ دَنَانِيرَ، فَأَرْضَاهُ بِهَا.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ کل صدقہ کے اونٹ لے آنا تاکہ انہیں تقسیم کر دیا جائے اور بغیر اجازت ہمارے پاس کوئی نہ آئے۔ تو ایک عورت نے اپنے خاوند کو کہا کہ یہ لگام لو شاید کل اللہ ہمیں بھی کوئی اونٹ عطا فرما دے تو آدمی نے انکار کر دیا۔ جب دوسرے دن سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس شخص نے اونٹوں کے پاس داخل ہوتے دیکھا تو یہ بھی داخل ہو گیا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: تم کیوں آئے ہو؟ اور اس سے لگام لے کر اسے مارا۔ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اونٹوں کی تقسیم سے فارغ ہو گئے تو اس شخص کو بلایا اور اسے لگام دے کر فرمایا: قصاص لے لو۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: آپ اسے سنت نہ بنائیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کل قیامت کے دن اللہ سے کون بچائے گا؟ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ دیت پر راضی کر لو تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ اسے ایک سواری اور اس کا کجاوہ، ایک چادر اور پانچ دینار دے دے تو وہ شخص اس پر راضی ہو گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16025]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16026
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، أَعْطَوَا الْقَوَدَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَلَمْ يُسْتَقَدْ مِنْهُمْ وَهُمْ سَلَاطِينُ.
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم نے اپنے آپ کو قصاص کے لیے پیش فرمایا، لیکن آپ سے قصاص نہیں لیا گیا اور آپ اس وقت امیر تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16026]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ مرسل، زهري»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں