السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3258. -- باب: ما جاء في الترغيب في العفو عن القصاص
-- باب: قصاص معاف کر دینے کی ترغیب کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16055
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ، ثنا ابْنُ شُعَيْبٍ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ دَقَّ سِنَّ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَاسْتَعْدَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِمُعَاوِيَةَ: إِنَّ هَذَا دَقَّ سِنِّي، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: كَلَّا، إِنَّا سَنُرْضِيكَ قَالَ: وَأَلَحَّ عَلَى مُعَاوِيَةَ وَأَكَبَّ عَلَيْهِ حَتَّى أَبْرَمَهُ، فَقَالَ: شَأْنَكَ بِصَاحِبِكَ قَالَ: وَأَبُو الدَّرْدَاءِ جَالِسٌ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يُصَابُ بِشَيْءٍ فِي جَسَدِهِ فَيَصَّدَّقُ بِهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهِ خَطِيئَةً" فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِأَبِي الدَّرْدَاءِ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: فَإِنِّي أَدَعُهَا لِلَّهِ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: لَا جَرَمَ، وَاللهِ لَا تَخِيبُ، وَأَمَرَ لَهُ بِمَالٍ.
ابوسفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قریش کے ایک شخص نے ایک انصاری کے دانت توڑ دیے۔ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آگئے۔ انصاری کہنے لگا: اس نے میرے دانت توڑ دیے، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ہرگز نہیں۔ آپ کو راضی کریں گے، ہم تو، انصاری نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر اصرار کیا اور ان کے پیچھے پڑا رہا یہاں تک کہ انہیں تنگ کر دیا، تو انہوں نے فرمایا: اپنے آدمی کے ساتھ جو چاہو کرو۔ تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ، جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ہی کے پاس بیٹھے تھے، فرمانے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس مسلمان کو بھی کوئی جسمانی تکلیف پہنچتی ہے، وہ اسے صدقہ کرتے ہوئے چھوڑ دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سبب اس کے درجات بلند فرماتا ہے اور گناہ مٹا دیتا ہے۔“
وہ انصاری سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے عرض کرنے لگا کہ کیا آپ نے خود یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہاں، میرے کانوں نے سنا ہے اور میرے دل نے یاد کیا ہے، تو وہ انصاری کہنے لگا: میں اسے اللہ کے لیے معاف کرتا ہوں۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: کوئی حرج نہیں، لیکن تجھے بھی ایسے نہیں چھوڑا جائے گا اور اسے مال دینے کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16055]
وہ انصاری سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے عرض کرنے لگا کہ کیا آپ نے خود یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہاں، میرے کانوں نے سنا ہے اور میرے دل نے یاد کیا ہے، تو وہ انصاری کہنے لگا: میں اسے اللہ کے لیے معاف کرتا ہوں۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: کوئی حرج نہیں، لیکن تجھے بھی ایسے نہیں چھوڑا جائے گا اور اسے مال دینے کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16055]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16055 in Urdu