السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3258. -- باب: ما جاء في الترغيب في العفو عن القصاص
-- باب: قصاص معاف کر دینے کی ترغیب کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16054
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ بْنِ هَارُونَ السِّمَّرِيُّ، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ الْبَكْرَاوِيُّ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عُمَرَ الْعَائِذِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جِيءَ بِالرَّجُلِ الْقَاتِلِ يُقَادُ فِي نِسْعَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَلِيِّ الْمَقْتُولِ:" أَتَعْفُو؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَتَقْتُلُهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اذْهَبْ بِهِ فَلَمَّا ذَهَبَ بِهِ فَتَوَلَّى مِنْ عِنْدِهِ قَالَ لَهُ:" تَعَالَ أَتَعْفُو؟" مِثْلَ قَوْلِهِ الْأَوَّلِ، فَقَالَ وَلِيُّ الْمَقْتُولِ مِثْلَ قَوْلِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الرَّابِعَةِ:" أَمَا إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ فَإِنَّهُ يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ" قَالَ: فَتَرَكَهُ، قَالَ: فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ، وَقَالَ فِيهِ يَحْيَى الْقَطَّانُ عَنْ عَوْفٍ:" يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ.
علقمہ بن وائل اپنے والد (وائل بن حجر رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، ایک قاتل کو لایا گیا جس سے قصاص طلب کیا گیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے ولیوں سے پوچھا: ”کیا تم معاف کرتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم دیت لینا چاہتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم قتل کرنا چاہتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اسے لے جاؤ۔“ جب وہ چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوبارہ بلایا اور پھر معافی اور دیت کا پوچھا تو انہوں نے وہی جواب دیا، تین مرتبہ ایسا ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوتھی مرتبہ ارشاد فرمایا: ”اگر تو اسے معاف کر دے تو وہ تیرا گناہ اور تیرے صاحب کا گناہ اپنے سر لے لے گا۔“ تو اس نے اسے چھوڑ دیا۔ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ وہ اپنے تسمے کو گھسیٹ رہا تھا۔ اور یحییٰ قطان رحمہ اللہ نے فرمایا: ”وہ اس کا گناہ اور تیرے صاحب کا گناہ اپنے سر لے لے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16054]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16054 in Urdu