السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3274. -- باب: ما جاء في الاستثناء بالقصاص من الجرح والقطع
-- باب: زخم لگانے اور اعضاء کاٹنے کے قصاص میں استثناء کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16115
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْقَاضِي أَبُو طَاهِرٍ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَبْدُوسٍ، ثنا الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمْرَانَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا طَعَنَ رَجُلًا بِقَرْنٍ فِي رُكْبَتِهِ فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَقِدْنِي، قَالَ:" حَتَّى تَبْرَأَ" ثُمَّ جَاءَ إِلَيْهِ فَقَالَ: أَقِدْنِي، فَأَقَادَهُ، ثُمَّ جَاءَ إِلَيْهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، عَرَجْتُ، فَقَالَ:" قَدْ نَهَيْتُكَ فَعَصَيْتَنِي، فَأَبْعَدَكَ اللهُ وَبَطَلَ عَرَجُكَ" ثُمَّ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْتَصَّ مِنْ جُرْحٍ حَتَّى يَبْرَأَ صَاحِبُهُ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے کے گھٹنے کو سینگ مار کر زخمی کر دیا تو وہ قصاص لینے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے ٹھیک ہو جاؤ۔“ وہ پھر مطالبہ کرنے آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص دلوا دیا۔ پھر کچھ عرصے بعد آیا تو کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں لنگڑا ہو چکا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تجھے منع نہیں کیا تھا؟ تو نے میری نافرمانی کی، اللہ تجھے دور کرے، اور تیرا لنگڑا پن رائیگاں گیا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کر دیا کہ زخم کے ٹھیک ہونے تک قصاص نہ لیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16115]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16115 in Urdu