السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3274. -- باب: ما جاء في الاستثناء بالقصاص من الجرح والقطع
-- باب: زخم لگانے اور اعضاء کاٹنے کے قصاص میں استثناء کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16107
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ، ثنا عَبْدَانُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ⦗١١٦⦘ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلًا طَعَنَ رَجُلًا بِقَرْنٍ فِي رُكْبَتِهِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَقِيدُ، فَقَالَ لَهُ:" حَتَّى تَبْرَأَ" وَفِي رِوَايَةِ أَبِي عَلِيٍّ الْحَافِظِ: فَقِيلَ لَهُ: حَتَّى تَبْرَأَ قَالَ: فَأَبَى، وَعَجَّلَ فَاسْتَقَادَ، فَعَتِبَتْ رِجْلُهُ وَبَرِئَتْ رِجْلُ الْمُسْتَقَادِ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: لَيْسَ لَكَ شَيْءٌ، إِنَّكَ أَبَيْتَ،.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کے گھٹنے میں سینگ مار دیا، وہ شخص قصاص کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہو جاؤ پھر آنا۔“ اس نے انکار کیا اور فوراً قصاص کا مطالبہ کیا۔ اسے قصاص لے دیا گیا تو جس سے قصاص لیا تھا اس کا گھٹنا صحیح ہو گیا اور اس کا نہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے کچھ نہیں، یہ تیرے انکار کی وجہ سے ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16107]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ منكر»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16108
وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، فَذَكَرَهُ، وَقَالَ: فَقِيلَ لَهُ حَتَّى تَبْرَأَ،.
عثمان بن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے سابقہ روایت میں «حَتّٰى تَبْرَأَ» کے الفاظ بیان فرمائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16108]
حدیث نمبر: 16109
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَا: قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ: أَخْطَأَ فِيهِ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، وَخَالَفَهُمَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَغَيْرُهُ، فَرَوَوْهُ عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرٍو مُرْسَلًا، وَكَذَلِكَ قَالَ أَصْحَابُ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْهُ، وَهُوَ الْمَحْفُوظُ مُرْسَلًا.
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سابقہ روایت میں ابی شیبہ کے بیٹوں نے خطا کی ہے اور ان دونوں کی مخالفت امام احمد رحمہ اللہ نے کی ہے، انہوں نے ابن علیہ عن ایوب عن عمرو کے طرق سے مرسل روایت بیان کی ہے، اسی طرح عمرو بن دینار رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب نے کیا ہے اور محفوظ بھی یہی ہے کہ یہ مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16109]
تخریج الحدیث: «صحيح للدارقطني»
الحكم على الحديث: صحيح للدارقطني
حدیث نمبر: 16110
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبُو بَكْرٍ، قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ،⦗١١٧⦘ وَعَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْعَدَكَ اللهُ أَنْتَ عَجِلْتَ".
محمد بن طلحہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کیا ہے اور عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے یہ الفاظ نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تجھے دور کرے، تو نے جلدی کی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16110]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16111
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ الرَّمْلِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثنا عَمْرٌو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، قَالَ: طَعَنَ رَجُلٌ آخَرَ بِقَرْنٍ فِي رِجْلِهِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَقِدْنِي، فَقَالَ:" انْتَظِرْ" ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ: أَقِدْنِي، قَالَ:" انْتَظِرْ" ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ أَوْ مَا شَاءَ اللهُ فَقَالَ: أَقِدْنِي، فَأَقَادَهُ فَبَرِئَ الْأَوَّلُ وَشُلَّتْ رِجْلُ الْآخَرِ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ" أَقِدْنِي مَرَّةً أُخْرَى، قَالَ:" لَيْسَ لَكَ شَيْءٌ، قَدْ قُلْتُ لَكَ: انْتَظِرْ، فَأَبَيْتَ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ جَابِرٍ.
محمد بن طلحہ بن یزید کہتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے کی ٹانگ کو سینگ سے زخمی کر دیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قصاص لینے آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انتظار کر لو۔“ پھر دوبارہ قصاص لینے آ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”انتظار کر لو۔“ پھر تیسری مرتبہ یا اس سے زائد مرتبہ قصاص طلب کرنے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص لے کر دے دیا۔ اس شخص کی ٹانگ ٹھیک ہو گئی اور قصاص لینے والے کی مثل ہو گئی تو وہ دوبارہ قصاص کے مطالبے کے لیے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب تیرے لیے کچھ نہیں، کیا میں نے تجھے کہا نہیں تھا کہ انتظار کر لے؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16111]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16112
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأُمَوِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَعُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، وَيَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلًا جُرِحَ فَأَرَادَ أَنْ يَسْتَقِيدَ، فَنَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُمْتَثَلَ مِنَ الْجَارِحِ حَتَّى يَبْرَأَ الْمَجْرُوحُ تَفَرَّدَ بِهِ عَنْهُمْ هَذَا الْأُمَوِيُّ، وَعَنْهُ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص زخمی کر دیا گیا، اس نے قصاص طلب کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کر دیا اور فرمایا: ”جب تک زخم ٹھیک نہ ہو جائے۔“
اسے ان سے صرف یہ اموی (عبداللہ بن عبداللہ) بیان کرتا ہے اور اس سے صرف یعقوب بن حمید۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16112]
اسے ان سے صرف یہ اموی (عبداللہ بن عبداللہ) بیان کرتا ہے اور اس سے صرف یعقوب بن حمید۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16112]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16113
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَالِدٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تُقَاسُ الْجِرَاحَاتُ، ثُمَّ يُسْتَأْنَى بِهَا سَنَةً، ثُمَّ يُقْضَى فِيهَا بِقَدْرِ مَا انْتَهَتْ إِلَيْهِ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الضُّعَفَاءِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، وَمِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ جَابِرٍ، وَلَمْ يَصِحَّ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زخموں پر قیاس کیا جائے گا اور ایک سال انتظار کیا جائے گا، پھر جو زخم کی حالت ہو گی، اس کے مطابق قصاص لیا جائے گا۔“
اسی طرح اسے ضعیف راویوں کی ایک جماعت نے ابو الزبیر سے روایت کیا ہے، اور دو دوسرے طرق سے بھی جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، لیکن ان میں سے کوئی چیز صحیح نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16113]
اسی طرح اسے ضعیف راویوں کی ایک جماعت نے ابو الزبیر سے روایت کیا ہے، اور دو دوسرے طرق سے بھی جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، لیکن ان میں سے کوئی چیز صحیح نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16113]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16114
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مِيكَالٍ، أنبأ عَبْدَانُ الْحَافِظُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَجَأَ ⦗١١٨⦘ رَجُلٌ فَخِذَ رَجُلٍ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَقِدْنِي مِنْهُ قَالَ:" حَتَّى تَبْرَأَ" قَالَ: أَقِدْنِي، قَالَ:" حَتَّى تَبْرَأَ" ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: أَقِدْنِي يَا رَسُولَ اللهِ، فَأَقَادَهُ فَجَاءَ بَعْدُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: شُلَّتْ رِجْلِي، قَالَ:" قَدْ أَخَذْتَ حَقَّكَ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے کی ران زخمی کر دی، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قصاص طلب کرنے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے ٹھیک ہو جا۔“ اس نے پھر مطالبہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہو جاؤ۔“ اس نے پھر مطالبہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص لے دیا۔ کچھ عرصے کے بعد وہ قصاص لینے والا شخص آیا اور کہنے لگا: میری ٹانگ شل ہو گئی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اپنا حق لے لیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16114]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16115
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْقَاضِي أَبُو طَاهِرٍ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَبْدُوسٍ، ثنا الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمْرَانَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا طَعَنَ رَجُلًا بِقَرْنٍ فِي رُكْبَتِهِ فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَقِدْنِي، قَالَ:" حَتَّى تَبْرَأَ" ثُمَّ جَاءَ إِلَيْهِ فَقَالَ: أَقِدْنِي، فَأَقَادَهُ، ثُمَّ جَاءَ إِلَيْهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، عَرَجْتُ، فَقَالَ:" قَدْ نَهَيْتُكَ فَعَصَيْتَنِي، فَأَبْعَدَكَ اللهُ وَبَطَلَ عَرَجُكَ" ثُمَّ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْتَصَّ مِنْ جُرْحٍ حَتَّى يَبْرَأَ صَاحِبُهُ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے کے گھٹنے کو سینگ مار کر زخمی کر دیا تو وہ قصاص لینے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے ٹھیک ہو جاؤ۔“ وہ پھر مطالبہ کرنے آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص دلوا دیا۔ پھر کچھ عرصے بعد آیا تو کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں لنگڑا ہو چکا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تجھے منع نہیں کیا تھا؟ تو نے میری نافرمانی کی، اللہ تجھے دور کرے، اور تیرا لنگڑا پن رائیگاں گیا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کر دیا کہ زخم کے ٹھیک ہونے تک قصاص نہ لیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجِنَايَاتِ/حدیث: 16115]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف