🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3344. جماع أبواب كفارة القتل -- باب: ما جاء في وجوب الكفارة في أنواع قتل الخطأ
قتل کے کفارے کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: مختلف اقسام کے قتلِ خطا میں کفارہ واجب ہونے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16470
أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: لَجَأَ قَوْمٌ إِلَى خَثْعَمَ، فَلَمَّا غَشِيَهُمُ الْمُسْلِمُونَ اسْتَعْصَمُوا بِالسُّجُودِ فَقَتَلُوا بَعْضَهُمْ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَعْطُوهُمْ نِصْفَ الْعَقْلِ لِصَلَاتِهِمْ" ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ:" أَلَا إِنِّي بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ مَعَ مُشْرِكٍ" قَالُوا: لِمَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" لَا تَرَايَا نَارَاهُمَا" قَالَ الشَّافِعِيُّ: إِنْ كَانَ هَذَا ثَبَتَ فَأَحْسَبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللهُ أَعْلَمُ، أَعْطَى مَنْ أَعْطَى مِنْهُمْ مُتَطَوِّعًا، وَأَعْلَمَهُمْ أَنَّهُ بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ مَعَ مُشْرِكٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ، فِي دَارِ شِرْكٍ لِيُعْلِمَهُمْ أَنْ لَا دِيَاتِ لَهُمْ وَلَا قَوَدَ قَالَ الشَّيْخُ الْفَقِيهُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا مَوْصُولًا.
قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک قوم نے خثعم قبیلہ سے پناہ مانگی، جب مسلمانوں نے انھیں گھیر لیا تو وہ سجدوں میں پڑ کر اپنے آپ کو بچانے لگے لیکن پھر بھی ان میں سے بعض کو قتل کر دیا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتا چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی نمازوں کی وجہ سے نصف دیت ان کو دے دو۔“ اور اس وقت فرمایا تھا: ”میں ہر مسلم سے مشرک کے ساتھ بری ہوں“ تو انھوں نے کہا: کیوں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں کی آگ ایک دوسرے کو نظر نہ آئے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر یہ ثابت ہو تو میں یہ خیال کرتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ویسے ہی تطوعاً انھیں دیا تھا اور ویسے ہی انھیں علم دینے کے لیے کہا تھا کہ ”میں مسلمان سے مشرک کے ساتھ بری ہوں“ کہ وہ دارِ شرک میں تھے تاکہ انھیں پتا چل جائے کہ نہ تو ان کے لیے دیت ہے اور نہ ہی قصاص۔ واللہ اعلم۔
شیخ (بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت موصول سند سے بھی بیان کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16470]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16470 in Urdu