السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3344. جماع أبواب كفارة القتل -- باب: ما جاء في وجوب الكفارة في أنواع قتل الخطأ
قتل کے کفارے کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: مختلف اقسام کے قتلِ خطا میں کفارہ واجب ہونے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16471
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَى خَثْعَمَ، فَاعْتَصَمَ نَاسٌ بِالسُّجُودِ فَأَسْرَعَ فِيهُمُ الْقَتْلَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُمْ بِنِصْفِ الْعَقْلِ، وَقَالَ:" أَنَا بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ مُقِيمٍ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِينَ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَلِمَ؟ قَالَ:" لَا تَرَايَا نَارَاهُمَا".
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر خثعم کی طرف بھیجا تو لوگوں نے اپنے آپ کو سجدوں میں گر کر بچایا لیکن پھر بھی جلد بازی میں کچھ قتل کر دیے گئے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا پتا چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نصف دیت کا حکم دیا اور فرمایا: ”میں ہر مسلمان سے بری ہوں جو ان مشرکین کے درمیان میں ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: کیوں یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں کی آگ ایک دوسرے کو نظر نہ آئے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسامة/حدیث: 16471]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ منكر»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16471 in Urdu