السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3417. -- باب: من قال: من أشرك بالله فليس بمحصن
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا وہ محصن (شادی شدہ کے شرعی حکم میں) نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 16939
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُنِيرٍ الْمَطِيرِيُّ، قَالَ: كَتَبَ إِلِيَّ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْبَلَدِيُّ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي نَافِعٍ، ثنا عَفِيفُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُحْصِنُ أَهْلُ الشِّرْكِ بِاللهِ شَيْئًا"، قَالَ أبو أَحْمَدَ، وَرَوَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي نَافِعٍ، عَنْ مُعَافَى بْنِ عِمْرَانَ، عَنِ الثَّوْرِيِّ وَهُوَ مُنْكَرٌ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَا: أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، قَالَ: وَهِمَ عَفِيفٌ فِي رَفْعِهِ، وَالصَّوَابُ مَوْقُوفٌ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے کسی کو کچھ بھی محصن نہیں بناتے۔“
ابو احمد (ابن عدی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ثوری کی موسیٰ بن عقبہ سے اس سند کے ساتھ یہ روایت منکر ہے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عفیف نے اسے مرفوع بیان کرنے میں وہم کیا ہے، درست یہ ہے کہ یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول (موقوف) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16939]
ابو احمد (ابن عدی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ثوری کی موسیٰ بن عقبہ سے اس سند کے ساتھ یہ روایت منکر ہے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عفیف نے اسے مرفوع بیان کرنے میں وہم کیا ہے، درست یہ ہے کہ یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول (موقوف) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16939]
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16939 in Urdu