🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3428. -- باب: من قال: لا يقام عليه الحد حتى يعترف أربع مرات
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک جب تک وہ چار مرتبہ اعتراف نہ کر لے اس پر حد قائم نہیں کی جائے گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16997
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو الْحِيرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا إِسْحَاقُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا دَاوُدُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ، يُقَالُ لَهُ: مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ، أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أَصَبْتُ فَاحِشَةً، فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، فَرَدَّهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَارًا، ثُمَّ سَأَلَ قَوْمَهُ، فَقَالُوا: مَا نَعْلَمُ بِهِ بَأْسًا إِلَّا أَنَّهُ أَصَابَ شَيْئًا يَرَى أَنْ لَا يُخْرِجَهُ مِنْهُ إِلَّا أَنْ يُقَامَ فِيهِ الْحَدُّ، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَنَا أَنْ نَرْجُمَهُ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، قَالَ: فَمَا أَوْثَقْنَاهُ، وَلَا حَفَرْنَا لَهُ، قَالَ: فَرَمَيْنَاهُ بِالْعِظَامِ وَالْمَدَرِ وَالْخَزَفِ، قَالَ: فَاشْتَدَّ وَاشْتَدَدْنَا خَلْفَهُ حَتَّى أَتَى عُرْضَ الْحَرَّةِ فَانْتَصَبَ لَنَا فَرَمَيْنَاهُ بِجَلَامِيدِ الْحَرَّةِ، يَعْنِي الْحِجَارَةَ، حَتَّى سَكَتَ، قَالَ: ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا مِنَ الْعِشَاءِ قَالَ:" أَكُلَّمَا انْطَلَقْنَا غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللهِ تَخَلَّفَ رَجُلٌ فِي عِيَالِنَا لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ، عَلَى أَنْ لَا أُوتَى بِرَجُلٍ فَعَلَ ذَلِكَ إِلَّا نَكَّلْتُ بِهِ" قَالَ: فَمَا اسْتَغْفَرَ لَهُ، وَلَا سَبَّهُ لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ الْمُثَنَّى رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، وَسُؤَالُهُ قَوْمَهُ بَعْدَ اعْتِرَافِهِ مِرَارًا دَلِيلٌ عَلَى أَنَّهُ كَانَ يَشُكُّ فِي عَقْلِهِ.
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسلم قبیلے کا ایک شخص جس کا نام ماعز رضی اللہ عنہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے زنا کا اعتراف کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعراض کر لیا۔ جب اس نے بار بار اس کا اصرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قوم سے پوچھا: ”کیا ماعز پاگل تو نہیں؟“ انہوں نے کہا: ہم نے تو اس میں کوئی چیز ایسی نہیں دیکھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کا حکم دے دیا۔ ہم اسے بقیع الغرقد کی طرف لے آئے، ہم نے نہ اسے باندھا، نہ زمین میں گاڑا اور پتھروں سے اسے مارا تو وہ تکلیف کی وجہ سے بھاگا۔ ہم نے اسے حرہ کے مقام پر جا کر پکڑ لیا اور اسے وہاں مارا تو وہ مر گیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کو عشاء کے وقت خطبہ دیا تو فرمایا: ”جب بھی ہم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتے ہیں تو کوئی آدمی ہمارے گھر والوں میں پیچھے رہ جاتا ہے جو بکرے کی طرح شہوت سے آوازیں نکالتا ہے، سن لو! جو آدمی بھی ایسا کر کے میرے پاس لایا گیا میں اسے عبرت کا نشان بنا دوں گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ ماعز رضی اللہ عنہ کو برا کہا اور نہ استغفار کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16997]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16997 in Urdu