🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3428. -- باب: من قال: لا يقام عليه الحد حتى يعترف أربع مرات
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک جب تک وہ چار مرتبہ اعتراف نہ کر لے اس پر حد قائم نہیں کی جائے گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16998
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ وَهُوَ أَبُو الشَّيْخِ، ثنا أَبُو يَعْلَى، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَاصِمٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنِ ابْنِ عَمٍّ لِأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ مَاعِزًا، جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، حَتَّى قَالَهَا أَرْبَعًا، فَلَمَّا كَانَ فِي الْخَامِسَةِ قَالَ:" زَنَيْتَ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" وَتَدْرِي مَا الزِّنَا؟" قَالَ: نَعَمْ، أَتَيْتُ مِنْهَا حَرَامًا، مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنَ امْرَأَتِهِ حَلَالًا، قَالَ:" مَا تُرِيدُ إِلَى هَذَا الْقَوْلِ؟" قَالَ: أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَدْخَلْتَ ذَلِكَ مِنْهُ فِي ذَلِكَ مِنْهَا، كَمَا يَغِيبُ الْمِيلُ فِي الْمُكْحُلَةِ، وَالْعَصَا فِي الشَّيْءِ؟" أَوْ قَالَ:" الرِّشَاءُ فِي الْبِئْرِ؟" قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، فَأَمَرَ ⦗٣٩٧⦘ بِرَجْمِهِ فَرُجِمَ، فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَيْنِ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: أَلَمْ تَرَ إِلَى هَذَا الَّذِي سَتَرَ اللهُ عَلَيْهِ فَلَمْ تَدَعْهُ نَفْسُهُ حَتَّى رُجِمَ رَجْمَ الْكَلْبِ، فَسَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ثُمَّ مَرَّ بِجِيفَةِ حِمَارٍ فَقَالَ:" أَيْنَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ؟ قُومَا فَانْزِلَا فَكُلَا مِنْ جِيفَةِ هَذَا الْحِمَارِ" فَقَالَا: غَفَرَ اللهُ لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، وَهَلْ يُؤْكَلُ مِثْلُ هَذَا؟ قَالَ:" فَمَا نِلْتُمَا مِنْ أَخِيكُمَا آنِفًا شَرٌّ مِنْ هَذَا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّهُ الْآنَ لَفِي أَنْهَارِ الْجَنَّةِ يَتَقَمَّسُ فِيهَا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ماعز نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پانچ مرتبہ زنا کا اعتراف کیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”جانتے ہو زنا کیا ہوتا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، کہ جس طرح آدمی بیوی کے پاس حلال طریقے سے آتا ہے، تو غیر بیوی کے ساتھ ویسا حرام طریقے سے کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا چاہتے ہو؟“ انہوں نے کہا: مجھے پاک کر دیجیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو نے ایسے کیا تھا جیسے سرمچو سرمہ دانی میں، یا لاٹھی کسی چیز میں داخل کی جائے، یا ڈول کنویں میں؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے رجم کا حکم دے دیا۔ اسے رجم کر دیا گیا، تو دو شخص باتیں کر رہے تھے کہ اللہ نے اس پر پردہ ڈالا تھا، لیکن اس نے خود ظاہر کر کے کتے کی طرح رجم ہو گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن لی۔ پھر چلے اور ایک گدھے کی سڑی ہوئی لاش کے پاس سے گزرے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”فلاں فلاں کہاں ہیں؟“ وہ دونوں کھڑے ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس گدھے کی اس سڑی ہوئی لاش سے کھاؤ۔“ وہ کہنے لگے: اللہ آپ کو معاف فرمائے، اس سے کون کھائے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بھائی کے بارے میں تم نے جو بات کہی تھی وہ اس کے کھانے سے بھی زیادہ بری تھی اور اللہ کی قسم! میں نے ابھی دیکھا کہ ماعز جنت کی نہر میں غوطہ لگا رہا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16998]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16998 in Urdu