🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3428. -- باب: من قال: لا يقام عليه الحد حتى يعترف أربع مرات
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک جب تک وہ چار مرتبہ اعتراف نہ کر لے اس پر حد قائم نہیں کی جائے گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16999
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّ الْأَخِرَ زَنَى، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: هَلْ ذَكَرْتَ هَذَا لِأَحَدٍ غَيْرِي؟ فَقَالَ: لَا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَتُبْ إِلَى اللهِ وَاسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللهِ، فَإِنَّ اللهَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ، فَلَمْ تُقِرَّهُ نَفْسُهُ حَتَّى أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ كَمَا قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ كَمَا قَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَلَمْ تُقِرَّهُ نَفْسُهُ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ الْأَخِرَ زَنَى، قَالَ سَعِيدٌ: فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَارًا، كُلُّ ذَلِكَ يَعْرِضُ عَنْهُ، حَتَّى إِذَا أَكْثَرَ عَلَيْهِ بَعَثَ إِلَى أَهْلِهِ فَقَالَ:" أَيَشْتَكِي بِهِ جِنَّةً؟" فَقَالُوا: وَاللهِ إِنَّهُ لَصَحِيحٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبِكْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ؟" فَقَالُوا: بَلْ ثَيِّبٌ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ".
ابن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اسلم قبیلے کا ایک شخص سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور زنا کا اعتراف کیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ میرے علاوہ کسی اور کو بھی بتایا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، تو انہوں نے فرمایا کہ پھر توبہ کر لو اور اسے چھپا کے رکھو، لیکن اس سے نہ رہا گیا۔ اس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ والا جواب دیا۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعراض فرما لیا لیکن اس کے بار بار اصرار کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے گھر والوں سے معلوم کروایا کہ ”کیا یہ مجنوں تو نہیں؟“ انہوں نے کہا: نہیں، یہ تو بالکل صحیح ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ؟“ اس نے کہا: شادی شدہ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دے دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحدود/حدیث: 16999]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 16999 in Urdu