السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3467. -- باب: ما يكون حرزا وما لا يكون
-- باب: کون سی چیز حرز (محفوظ مقام) شمار ہوتی ہے اور کون سی نہیں، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 17217
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قُوهْيَارٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ، أنبأ بَكَّارُ بْنُ الْخَصِيبِ، ثنا حَبِيبٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: بَيْنَمَا صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ مُضْطَجِعٌ بِالْبَطْحَاءِ إِذْ جَاءَ إِنْسَانٌ فَأَخَذَ بُرْدَهُ مِنْ تَحْتِ رَأْسِهِ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ، فَقَالَ: إِنِّي أَعْفُو عَنْهُ أَوْ أَتَجَاوَزُ، قَالَ:" فَهَلْ قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنَا بِهِ أَبَا وَهْبٍ؟".
حضرت عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ ہمارے درمیان بطحاء میں سوئے ہوئے تھے، ایک آدمی آیا، اس نے آپ کے سر کے نیچے سے چادر اٹھا لی، یعنی چوری کر لی، تو حضرت صفوان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے، حضرت صفوان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے اسے معاف کر دیا ہے اور اس سے درگزر کرتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاش! تو میرے پاس آنے سے پہلے کر دیتا اے ابو وہب!“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17217]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17217 in Urdu