السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3467. -- باب: ما يكون حرزا وما لا يكون
-- باب: کون سی چیز حرز (محفوظ مقام) شمار ہوتی ہے اور کون سی نہیں، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 17218
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحُنَيْنِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ، ثنا أَسْبَاطٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ حُمَيْدِ ابْنِ أُخْتِ صَفْوَانَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: كُنْتُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ عَلَى خَمِيصَةٍ لِي ثَمَنُ ثَلَاثِينَ دِرْهَمًا، فَجَاءَ رَجُلٌ فَاخْتَلَسَهَا مِنِّي، فَأَخَذَ الرَّجُلَ فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهِ لِيُقْطَعَ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: أَتَقْطَعُهُ مِنْ أَجْلِ ثَلَاثِينَ دِرْهَمًا، أَنَا أَبِيعُهُ وَأُنْسِئُهُ ثَمَنَهَا، قَالَ:" أَلَا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ" هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ حَمَّادٍ.
سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں مسجد میں سویا ہوا تھا، میرے پاس ایک قمیض تھی جس کی قیمت تیس درہم تھی، ایک آدمی آیا اور اس نے وہ قمیض مجھ سے چوری کر لی۔ وہ آدمی پکڑا گیا، جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے عرض کیا: کیا آپ اس کا ہاتھ کاٹیں گے تیس درہم کے بدلہ میں؟ میں یہ اسے بیچ دیتا ہوں اور اس کی قیمت اسے ادھار دے دیتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! کاش تو میرے پاس آنے سے پہلے معاملہ حل کر لیتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السرقة/حدیث: 17218]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17218 in Urdu