السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3497. -- باب: ما جاء في الكسر بالماء
-- باب: (مشروب کی تیزی کو) پانی کے ذریعے توڑنے (کم کرنے) کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17442
أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيِّ، وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قِصَّةِ طَوَافِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدُعَائِهِ بِشَرَابٍ، قَالَ: فَأُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ دَعَا بِالْمَاءِ فَصَبَّهُ فِيهِ فَشَرِبَ، ثُمَّ اشْتَدَّ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ فِيهِ، ثُمَّ شَرِبَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، ثُمَّ قَالَ:" إِذَا اشْتَدَّ عَلَيْكُمْ فَاقْتُلُوهُ بِالْمَاءِ" وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ضَعِيفٌ، لَا يُحْتَجُّ بِهِ لِسُوءِ حِفْظِهِ وَقَدْ رَوَى خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قِصَّةَ طَوَافِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشُرْبِهِ، لَمْ يَذْكُرْ فِيهَا مَا ذَكَرَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، وَإِنَّمَا تُعْرَفُ هَذِهِ الزِّيَادَةُ مِنْ رِوَايَةِ الْكَلْبِيِّ كَمَا مَضَى، ⦗٥٢٩⦘ وَزَادَ يَزِيدُ: شَرِبَهُ مِنْهُ قَبْلَ خَلْطِهِ بِالْمَاءِ، وَهُوَ بِخِلَافِ سَائِرِ الرِّوَايَاتِ، وَكَيْفَ يُظَنُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْرَبَ الْمُسْكِرَ إِنْ كَانَ مُسْكِرًا عَلَى زَعْمِهِمْ قَبْلَ أَنْ يَخْلِطَهُ بِالْمَاءِ؟ فَدَلَّ عَلَى أَنَّهُ لَا أَصْلَ لَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قصہ طواف ذکر کرتے ہیں اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مشروب منگایا تھا اس کا ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ مشروب لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پیا، پھر پانی منگوا کر اس میں ڈالا اور پیا، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت محسوس ہوا تو پانی منگوا کر اس میں ڈالا، پھر دو یا تین مرتبہ پیا، پھر فرمایا: ”جب یہ تم پر سخت ہو جائے تو اس (کی سختی) کو پانی کے ساتھ قتل کرو۔“
یزید بن ابی زیاد ضعیف ہے، حافظے کی خرابی کی وجہ سے اس سے دلیل نہیں لی جاتی۔ خالد حذاء نے عکرمہ عن ابن عباس کے طریق سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طواف اور مشروب پینے کا قصہ روایت کیا ہے اور اس میں وہ بات ذکر نہیں کی جو یزید نے ذکر کی ہے، یہ اضافہ تو کلبی کی روایت سے پہچانا جاتا ہے جیسا کہ گزر چکا۔ یزید نے یہ اضافہ بھی کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی ملانے سے پہلے اس میں سے پیا، جو باقی تمام روایات کے خلاف ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ کیسے گمان کیا جا سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نشہ آور چیز، اگر ان کے خیال میں وہ نشہ آور تھی، پانی ملانے سے پہلے پی لیں؟ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی کوئی اصل نہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17442]
یزید بن ابی زیاد ضعیف ہے، حافظے کی خرابی کی وجہ سے اس سے دلیل نہیں لی جاتی۔ خالد حذاء نے عکرمہ عن ابن عباس کے طریق سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طواف اور مشروب پینے کا قصہ روایت کیا ہے اور اس میں وہ بات ذکر نہیں کی جو یزید نے ذکر کی ہے، یہ اضافہ تو کلبی کی روایت سے پہچانا جاتا ہے جیسا کہ گزر چکا۔ یزید نے یہ اضافہ بھی کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی ملانے سے پہلے اس میں سے پیا، جو باقی تمام روایات کے خلاف ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ کیسے گمان کیا جا سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نشہ آور چیز، اگر ان کے خیال میں وہ نشہ آور تھی، پانی ملانے سے پہلے پی لیں؟ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی کوئی اصل نہیں، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17442]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17442 in Urdu