السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3497. -- باب: ما جاء في الكسر بالماء
-- باب: (مشروب کی تیزی کو) پانی کے ذریعے توڑنے (کم کرنے) کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17443
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السِّرَاجُ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ، ثنا دَارِمٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَنَفِيَّ، قَالَ: شَهِدْتُ عَطَاءً وَسُئِلَ عَنِ النَّبِيذِ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ"، فَقُلْتُ: يَا ابْنَ أَبِي رَبَاحٍ إِنَّ هَؤُلَاءِ يَسْقُونَنَا فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: أَمَا وَاللهِ لَقَدْ أَدْرَكْتُهَا، وَإِنَّ الرَّجُلَ لِيَشْرَبُ مِنْهَا فَتَلْتَزِقُ شَفَتَاهُ مِنْ حَلَاوَتِهَا، وَلَكِنَّ الْحُرِّيَّةَ ذَهَبَتْ وَوَلِيَهَا الْعَبِيدُ فَتَهَاوَنُوا بِهَا.
دارم بن عبدالحمید حنفی کہتے ہیں کہ میں عطاء رحمہ اللہ کے پاس تھا۔ ان سے نبیذ کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ تو میں نے کہا: اے ابن ابی رباح! یہ لوگ تو ہمیں مسجد میں (نبیذ) پلاتے ہیں۔ تو انہوں نے فرمایا: «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ میں نے وہ زمانہ پایا ہے کہ آدمی اسے پیتا تو اس کی مٹھاس کی وجہ سے اس کے ہونٹ آپس میں چپک جاتے تھے، لیکن آزاد لوگ چلے گئے اور اس کا انتظام غلاموں کے ہاتھ آ گیا تو انہوں نے اس میں لاپرواہی برتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17443]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17443 in Urdu