السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3504. -- باب: من وجد منه ريح شراب أو لقي سكران
-- باب: جس شخص سے شراب کی بو آئے یا وہ نشے کی حالت میں پایا جائے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 17512
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ إِلَّا أَخِيرًا، لَقَدْ غَزَا غَزْوَةَ تَبُوكَ فَغَشِيَ حُجْرَتَهُ مِنَ اللَّيْلِ أَبُو عَلْقَمَةَ بْنُ الْأَعْوَرِ السُّلَمِيُّ، وَهُوَ سَكْرَانُ، حَتَّى قَطَعَ بَعْضَ عُرَى الْحُجْرَةِ، فَقَالَ:" مَنْ هَذَا؟" فَقِيلَ: أَبُو عَلْقَمَةَ سَكْرَانُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيَقُمْ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْكُمْ، فَلْيَأْخُذْ بِيَدِهِ حَتَّى يَرُدَّهُ إِلَى رَحْلِهِ" وَهَذَا إِنْ صَحَّ فَقَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ: لَمْ يَقِتْ فِي الْخَمْرِ حَدًّا يَعْنِي: لَمْ يُوَقِّتْهُ لَفْظًا وَقَدْ وَقَّتَهُ فِعْلًا وَذَلِكَ يُرَدُّ، وَإِنَّمَا لَمْ يَعْرِضْ لَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ، بَعْدَ دُخُولِهِ دَارَ الْعَبَّاسِ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ لَمْ ⦗٥٤٧⦘ يَكُنْ ثَبَتَ عَلَيْهِ الْحَدُّ بِإِقْرَارٍ مِنْهُ أَوْ بِشَهَادَةِ عُدُولٍ، وَإِنَّمَا لُقِيَ فِي الطَّرِيقِ يَمِيلُ فَظُنَّ بِهِ السُّكْرُ، فَلَمْ يَكْشِفْ عَنْهُ وَتَرَكَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شرابی کو صرف آخر میں سزا دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کیا تو رات کے وقت ابو علقمہ بن اعور سلمی رضی اللہ عنہ نشے میں دھت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے پر آ پڑا یہاں تک کہ اس نے حجرے کی بعض رسیاں کاٹ دیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ کہا گیا: ابو علقمہ نشے کی حالت میں ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی اسے پکڑو اور اس کی سواری کے پاس چھوڑ آؤ۔“
اگر یہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے صحیح ثابت ہو تو پھر یہ مطلب ہو گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظاً کوئی شراب کی حد مقرر نہیں فرمائی بلکہ عملاً مقرر فرمائی ہے اور یہ اس حدیث کے بھی معارض نہیں جو پہلے گزر چکی ہے کہ راستے میں ایک شخص نشے میں ٹہلتے دیکھا گیا تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لانے لگے تو وہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بھاگ گیا؛ کیونکہ اس پر حد نہ اس کے اقرار سے ثابت ہوئی تھی اور نہ عادل گواہوں کی گواہی سے، بلکہ صرف گمان تھا کہ اس نے نشہ کیا ہے، اس لیے اسے چھوڑ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17512]
اگر یہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے صحیح ثابت ہو تو پھر یہ مطلب ہو گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظاً کوئی شراب کی حد مقرر نہیں فرمائی بلکہ عملاً مقرر فرمائی ہے اور یہ اس حدیث کے بھی معارض نہیں جو پہلے گزر چکی ہے کہ راستے میں ایک شخص نشے میں ٹہلتے دیکھا گیا تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لانے لگے تو وہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بھاگ گیا؛ کیونکہ اس پر حد نہ اس کے اقرار سے ثابت ہوئی تھی اور نہ عادل گواہوں کی گواہی سے، بلکہ صرف گمان تھا کہ اس نے نشہ کیا ہے، اس لیے اسے چھوڑ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17512]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17512 in Urdu