🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3504. -- باب: من وجد منه ريح شراب أو لقي سكران
-- باب: جس شخص سے شراب کی بو آئے یا وہ نشے کی حالت میں پایا جائے اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17512
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ إِلَّا أَخِيرًا، لَقَدْ غَزَا غَزْوَةَ تَبُوكَ فَغَشِيَ حُجْرَتَهُ مِنَ اللَّيْلِ أَبُو عَلْقَمَةَ بْنُ الْأَعْوَرِ السُّلَمِيُّ، وَهُوَ سَكْرَانُ، حَتَّى قَطَعَ بَعْضَ عُرَى الْحُجْرَةِ، فَقَالَ:" مَنْ هَذَا؟" فَقِيلَ: أَبُو عَلْقَمَةَ سَكْرَانُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيَقُمْ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْكُمْ، فَلْيَأْخُذْ بِيَدِهِ حَتَّى يَرُدَّهُ إِلَى رَحْلِهِ" وَهَذَا إِنْ صَحَّ فَقَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ: لَمْ يَقِتْ فِي الْخَمْرِ حَدًّا يَعْنِي: لَمْ يُوَقِّتْهُ لَفْظًا وَقَدْ وَقَّتَهُ فِعْلًا وَذَلِكَ يُرَدُّ، وَإِنَّمَا لَمْ يَعْرِضْ لَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ، بَعْدَ دُخُولِهِ دَارَ الْعَبَّاسِ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ لَمْ ⦗٥٤٧⦘ يَكُنْ ثَبَتَ عَلَيْهِ الْحَدُّ بِإِقْرَارٍ مِنْهُ أَوْ بِشَهَادَةِ عُدُولٍ، وَإِنَّمَا لُقِيَ فِي الطَّرِيقِ يَمِيلُ فَظُنَّ بِهِ السُّكْرُ، فَلَمْ يَكْشِفْ عَنْهُ وَتَرَكَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(١٧٥١٢) ابن عباس فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیشرابی کو صرف آخر میں سزا دی ہے۔ آپ نے غزوہ تبوک کیا تو رات کے وقت ابو علقمہ بن اعور سلمی اپنے حجرے میں نشے میں دھت ہوگیا یہاں تک کہ اس نے بعض حجرے کی رسیاں کاٹ دیں تو پوچھا: یہ کون ہے؟ کہا گیا: ابو علقمہ نشے کی حالت میں تو آپ نے فرمایا: کوئی اسے پکڑو اور اس کی سواری کے پاس چھوڑ آؤ۔
اگر یہ ابن عباس سے صحیح ثابت ہو تو پھر یہ مطلب ہوگا کہ آپ نے فوراً کوئی شراب کی حد مقرر نہیں فرمائی عملاً مقرر فرمائی ہے اور یہ اس حدیث کے بھی معارض نہیں جو پہلے گزر چکی ہے کہ راستے میں ایک شخص نشے میں ٹہلتے دیکھا گیا تو اسے آپ کے پاس لانے لگے تو وہ حضرت عباس کے پاس بھاگ گیا؛ کیونکہ اس میں گمان تھا کہ اس نے نشہ کیا ہے اور نشہ ابھی ٹوٹا نہیں تھا اس لیے اسے چھوڑ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17512]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17512 in Urdu