🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3504. -- باب: من وجد منه ريح شراب أو لقي سكران
-- باب: جس شخص سے شراب کی بو آئے یا وہ نشے کی حالت میں پایا جائے اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17509
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا ابْنُ أَبِي عَاصِمٍ إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رُكَانَةَ، أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُوَقِّتْ فِي الْخَمْرِ حَدًّا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَشَرِبَ رَجُلٌ فَسَكِرَ، فَلُقِيَ يَمِيلُ فِي الْفَجِّ، فَانْطُلِقَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا حَاذَى بِدَارِ الْعَبَّاسِ انْفَلَتَ فَدَخَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ فَالْتَزَمَهُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ وَقَالَ:" فَعَلَهَا"، ثُمَّ لَمْ يَأْمُرْ فِيهِ بِشَيْءٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے بارے میں کوئی حد مقرر نہیں فرمائی۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے شراب پی لی اور اسے نشہ چڑھ گیا، وہ راستے میں ادھر ادھر بھٹک رہا تھا، لوگ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر جا رہے تھے۔ جب وہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے گھر کے برابر پہنچا تو چھوٹ کر بھاگا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس اندر جا کر ان سے چمٹ گیا۔ جب یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور پوچھا: ”کیا واقعی اس نے ایسا کیا؟“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں کوئی حکم نہ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17509]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17510
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: لَمْ يَقِتْ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا الْحَدِيثُ مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ.
«تَقَدَّمَ قَبْلَهُ» ”یہ اس سے پہلے گزر چکا ہے۔“
امام ابوداؤد فرماتے ہیں: یہ حدیث ان احادیث میں سے ہے جنہیں صرف اہلِ مدینہ نے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17510]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17511
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: سُئِلَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ رُكَانَةَ، الَّذِي رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، فَقَالَ: مَجْهُولٌ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَى مَعْنَى، هَذَا الْحَدِيثِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ.
علی بن مدینی رحمہ اللہ سے محمد بن علی بن رکانہ کے بارے میں پوچھا گیا جنہوں نے سابقہ روایت عکرمہ سے بیان کی ہے تو انہوں نے فرمایا: وہ مجہول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17511]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ لابن المديني»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17512
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ إِلَّا أَخِيرًا، لَقَدْ غَزَا غَزْوَةَ تَبُوكَ فَغَشِيَ حُجْرَتَهُ مِنَ اللَّيْلِ أَبُو عَلْقَمَةَ بْنُ الْأَعْوَرِ السُّلَمِيُّ، وَهُوَ سَكْرَانُ، حَتَّى قَطَعَ بَعْضَ عُرَى الْحُجْرَةِ، فَقَالَ:" مَنْ هَذَا؟" فَقِيلَ: أَبُو عَلْقَمَةَ سَكْرَانُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيَقُمْ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْكُمْ، فَلْيَأْخُذْ بِيَدِهِ حَتَّى يَرُدَّهُ إِلَى رَحْلِهِ" وَهَذَا إِنْ صَحَّ فَقَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ: لَمْ يَقِتْ فِي الْخَمْرِ حَدًّا يَعْنِي: لَمْ يُوَقِّتْهُ لَفْظًا وَقَدْ وَقَّتَهُ فِعْلًا وَذَلِكَ يُرَدُّ، وَإِنَّمَا لَمْ يَعْرِضْ لَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ، بَعْدَ دُخُولِهِ دَارَ الْعَبَّاسِ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ لَمْ ⦗٥٤٧⦘ يَكُنْ ثَبَتَ عَلَيْهِ الْحَدُّ بِإِقْرَارٍ مِنْهُ أَوْ بِشَهَادَةِ عُدُولٍ، وَإِنَّمَا لُقِيَ فِي الطَّرِيقِ يَمِيلُ فَظُنَّ بِهِ السُّكْرُ، فَلَمْ يَكْشِفْ عَنْهُ وَتَرَكَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شرابی کو صرف آخر میں سزا دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کیا تو رات کے وقت ابو علقمہ بن اعور سلمی رضی اللہ عنہ نشے میں دھت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے پر آ پڑا یہاں تک کہ اس نے حجرے کی بعض رسیاں کاٹ دیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ کہا گیا: ابو علقمہ نشے کی حالت میں ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی اسے پکڑو اور اس کی سواری کے پاس چھوڑ آؤ۔“
اگر یہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے صحیح ثابت ہو تو پھر یہ مطلب ہو گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظاً کوئی شراب کی حد مقرر نہیں فرمائی بلکہ عملاً مقرر فرمائی ہے اور یہ اس حدیث کے بھی معارض نہیں جو پہلے گزر چکی ہے کہ راستے میں ایک شخص نشے میں ٹہلتے دیکھا گیا تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لانے لگے تو وہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بھاگ گیا؛ کیونکہ اس پر حد نہ اس کے اقرار سے ثابت ہوئی تھی اور نہ عادل گواہوں کی گواہی سے، بلکہ صرف گمان تھا کہ اس نے نشہ کیا ہے، اس لیے اسے چھوڑ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17512]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17513
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَرَجَ فَصَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ، فَسَمِعَهُ السَّائِبُ يَقُولُ:" إِنِّي وَجَدْتُ مِنْ عُبَيْدِ اللهِ وَأَصْحَابِهِ رِيحَ شَرَابٍ، وَأَنَا سَائِلٌ عَمَّا شَرِبُوا، فَإِنْ كَانَ مُسْكِرًا حَدَدْتُهُمْ قَالَ سُفْيَانُ: فَأَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ حَضَرَهُ يَحُدُّهُمْ.
یہ حدیث پہلے نمبر 17497 کے تحت گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17513]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17514
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، ثنا الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَتَجْلِدُ فِي رِيحِ الشَّرَابِ؟ فَقَالَ عَطَاءٌ:" إِنَّ الرِّيحَ لَتَكُونُ مِنَ الشَّرَابِ الَّذِي لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، فَإِذَا اجْتَمَعُوا جَمِيعًا عَلَى شَرَابٍ وَاحِدٍ فَسَكِرَ أَحَدُهُمْ، جُلِدُوا جَمِيعًا الْحَدَّ تَامًّا" قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَوْلُ عَطَاءٍ مِثْلُ قَوْلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا کہ اگر کسی سے شراب کی بو آئے تو کیا آپ اسے کوڑے ماریں گے؟ فرمایا: شراب کی بو کوئی بات نہیں، ہاں سب نے مل کر کچھ پیا اور ایک کو بھی اس سے نشہ ہو گیا تو سب کو مکمل حد ماروں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17514]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17515
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: كُنْتُ جَالِسًا بِحِمْصَ فَقَالُوا لِي: اقْرَأْ، فَقَرَأْتُ سُورَةَ يُوسُفَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَاللهِ مَا هَكَذَا أَنْزَلَهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: فَقُلْتُ: وَيْحَكَ لَقَدْ قَرَأْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَحْسَنْتَ" وَأَنْتَ تَقُولُ لِي مَا تَقُولُ قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا أُكَلِّمُهُ إِذْ وَجَدْتُ مِنْهُ رِيحَ الْخَمْرِ، فَقُلْتُ: تُكَذِّبُ بِكِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَتَشْرَبُ الْخَمْرَ، أَمَا وَاللهِ لَا تَرْجِعُ إِلَى أَهْلِكَ حَتَّى أَجْلِدَكَ الْحَدَّ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، وَيُحْتَمَلُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ لَمْ يَجْلِدْهُ حَتَّى ثَبَتَ عِنْدَهُ شُرْبُهُ مَا يُسْكِرُ بِبَيِّنَةٍ أَوِ اعْتِرَافٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں حمص میں بیٹھا تھا تو لوگوں نے کہا: قرآن سنائیے۔ میں نے سورہ یوسف پڑھی تو ایک شخص کہنے لگا: اللہ کی قسم! یہ ایسے نہیں نازل ہوئی تھی۔ میں نے کہا: تو برباد ہو! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”بہت اچھا“ اور تو یہ بات کہتا ہے؟ ابھی میں یہ بات کر ہی رہا تھا کہ اس سے شراب کی بو محسوس کی تو میں نے کہا: تو شراب پی کر اللہ کی کتاب کو جھٹلاتا ہے؟ اللہ کی قسم! جب تک تجھے حد نہ مار دوں گھر نہیں جانے دوں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17515]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17516
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، وَكَانَ أَبُوهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا، أَنَّ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْتَعْمَلَ قُدَامَةَ بْنَ مَظْعُونٍ عَلَى الْبَحْرَيْنِ، وَهُوَ خَالُ حَفْصَةَ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، فَقَدِمَ الْجَارُودُ سَيِّدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ قُدَامَةَ شَرِبَ فَسَكِرَ، وَإِنِّي رَأَيْتُ حَدًّا مِنْ حُدُودِ اللهِ حَقًّا عَلَيَّ أَنْ أَرْفَعَهُ إِلَيْكَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَنْ شَهِدَ ⦗٥٤٨⦘ مَعَكَ؟ قَالَ: أَبُو هُرَيْرَةَ، فَدَعَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَ: بِمَ تَشْهَدُ؟ فَقَالَ: لَمْ أَرَهُ شَرِبَ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُهُ سَكْرَانَ يَقِيءُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَقَدْ تَنَطَّعْتَ فِي الشَّهَادَةِ، قَالَ: ثُمَّ كَتَبَ إِلَى قُدَامَةَ أَنْ يَقْدَمَ عَلَيْهِ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، فَقَدِمَ فَقَامَ إِلَيْهِ الْجَارُودُ فَقَالَ: أَقِمْ عَلَى هَذَا كِتَابَ اللهِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَخَصْمٌ أَنْتَ أَمْ شَهِيدٌ؟ قَالَ: بَلْ شَهِيدٌ، قَالَ: فَقَدْ أَدَّيْتَ الشَّهَادَةَ، فَصَمَتَ الْجَارُودُ حَتَّى غَدَا عَلَى عُمَرَ فَقَالَ: أَقِمْ عَلَى هَذَا حَدَّ اللهِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا أَرَاكَ إِلَّا خَصْمًا، وَمَا شَهِدَ مَعَكَ إِلَّا رَجُلٌ، فَقَالَ الْجَارُودُ: إِنِّي أَنْشُدُكَ اللهَ، فَقَالَ عُمَرُ: لَتُمْسِكَنَّ لِسَانَكَ أَوْ لَأَسُوءَنَّكَ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِنْ كُنْتَ تَشُكُّ فِي شَهَادَتِنَا فَأَرْسِلْ إِلَى ابْنَةِ الْوَلِيدِ فَاسْأَلْهَا، وَهِيَ امْرَأَةُ قُدَامَةَ، فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى هِنْدَ بِنْتِ الْوَلِيدِ يَنْشُدُهَا، فَأَقَامَتِ الشَّهَادَةَ عَلَى زَوْجِهَا، فَقَالَ عُمَرُ لِقُدَامَةَ: إِنِّي حَادُّكَ، فَقَالَ: لَوْ شَرِبْتُ كَمَا يَقُولُونَ مَا كَانَ لَكُمْ تَجْلِدُونِي، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لِمَ؟ قَالَ قُدَامَةُ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا} [المائدة: ٩٣] ، الْآيَةَ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَخْطَأْتَ التَّأْوِيلَ، إِنِ اتَّقَيْتَ اللهَ اجْتَنَبْتَ مَا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْكَ، قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: مَاذَا تَرَوْنَ فِي جَلْدِ قُدَامَةَ، قَالُوا: لَا نَرَى أَنْ تَجْلِدَهُ مَا كَانَ مَرِيضًا، فَسَكَتَ عَنْ ذَلِكَ أَيَّامًا ثُمَّ أَصْبَحَ يَوْمًا وَقَدْ عَزَمَ عَلَى جَلْدِهِ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: مَا تَرَوْنَ فِي جَلْدِ قُدَامَةَ، فَقَالَ الْقَوْمُ: مَا نَرَى أَنْ تَجْلِدَهُ مَا دَامَ وَجِعًا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَأَنْ يَلْقَى اللهَ عَزَّ وَجَلَّ تَحْتَ السِّيَاطِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ يَلْقَاهُ وَهُوَ فِي عُنُقِي، ائْتُونِي بِسَوْطٍ تَامٍّ، فَأَمَرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِقُدَامَةَ فَجُلِدَ فَغَاضَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قُدَامَةَ فَهَجَرَهُ، فَحَجَّ وَحَجَّ قُدَامَةُ مَعَهُ مُغَاضِبًا لَهُ، فَلَمَّا قَفَلَا مِنْ حَجِّهِمَا وَنَزَلَ عُمَرُ بِالسُّقْيَا وَاسْتَيْقَظَ عُمَرُ مِنْ نَوْمِهِ فَقَالَ: عَجِّلُوا عَلَيَّ بِقُدَامَةَ فَأْتُونِي بِهِ، فَوَاللهِ إِنِّي لَأَرَى أَنَّ آتِيًا أَتَانِي فَقَالَ: سَالِمْ قُدَامَةَ فَإِنِّي أَخُوكَ، فَعَجِّلُوا إِلِيَّ بِهِ، فَلَمَّا أَتَوْهُ أَبَى أَنْ يَأْتِيَ، فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِنْ أَبَى أَنْ يُجَرَّ إِلَيْهِ، حَتَّى كَلَّمَهُ وَاسْتَغْفَرَ لَهُ، وَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ صُلْحِهِمَا فِي ابْتِدَاءِ هَذِهِ الْقِصَّةِ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَوَقَّفَ فِي قَبُولِ شَهَادَتِهِمَا حَيْثُ لَمْ يَجْتَمِعَا عَلَى شُرْبِهِ، وَحِينَ حَدَّهُ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ ثَبَتَ عِنْدَهُ شُرْبُهُ بِإِقْرَارِهِ أَوْ شَهَادَةِ آخَرَ عَلَى شُرْبِهِ مَعَ الْجَارُودِ.
سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بحرین پر عامل مقرر کیا۔ وہ ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ماموں تھے۔ بنو عبدالقیس کے سردار جارود رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: اے امیر المؤمنین عمر! قدامہ نے شراب پی ہے اور وہ نشے میں دھت ہو گئے ہیں، میں نے ان کے متعلق اللہ کی حدود میں سے ایک حد کا علم پایا ہے، اس لیے آپ کو مطلع کر دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا کوئی اور گواہ ہے؟ انہوں نے کہا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ۔ جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے انہیں شراب پیتے ہوئے تو نہیں دیکھا، البتہ وہ نشے کی حالت میں قے (الٹیاں) کر رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے آدھی گواہی دی ہے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا قدامہ رضی اللہ عنہ کو بحرین سے بلا لیا اور وہ حاضر ہو گئے۔ جارود رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور کہا: اس پر اللہ کی کتاب کا حکم نافذ کیجیے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم گواہ ہو یا مدعی؟ انہوں نے کہا: گواہ ہوں، تو آپ نے فرمایا: تو پھر تم اپنی گواہی دے چکے ہو۔ اگلے دن پھر جارود رضی اللہ عنہ نے یہی مطالبہ کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم گواہ نہیں بلکہ مدعی بن رہے ہو۔ جارود رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اپنی زبان کو قابو میں رکھو ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا۔ اس پر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اگر ہماری گواہی قبول نہیں تو ولید کی بیٹی (جو قدامہ کی اہلیہ ہیں) سے معلوم کر لیں۔ جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے بھی گواہی دے دی۔ تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا قدامہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: میں تم پر حد لگاؤں گا۔ سیدنا قدامہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: آپ مجھے حد نہیں لگا سکتے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیوں؟ انہوں نے کہا: کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ﴿لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا﴾ [سورة المائدة: 93] ”مومنوں اور عملِ صالح کرنے والوں پر ان کے کھانے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اس کی غلط تفسیر کر رہے ہو، اگر تم اللہ سے ڈرتے ہوتے تو کبھی حرام کام نہ کرتے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے سیدنا قدامہ رضی اللہ عنہ کے کوڑوں کے بارے میں مشورہ کیا تو لوگوں نے منع کر دیا۔ آپ نے دوبارہ دریافت کیا تو انہوں نے پھر منع کر دیا کہ وہ بیمار ہیں۔ تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے اللہ کی بارگاہ میں اس حال میں حاضر ہونا زیادہ پسند ہے کہ میں نے کوڑے لگوائے ہوں، بجائے اس کے کہ یہ حد میرے گلے کا طوق بن جائے، پھر آپ نے کوڑا منگوایا اور سیدنا قدامہ رضی اللہ عنہ کو حد لگائی۔ سیدنا قدامہ رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ناراض ہو گئے۔ اسی حالت میں ان دونوں نے حج کیا۔ جب حج سے واپس لوٹے اور مقامِ سقیا پر رکے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نیند سے بیدار ہوئے اور فرمایا: قدامہ کو میرے پاس لاؤ۔ انہیں بلایا گیا تو انہوں نے آنے سے انکار کر دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: انہیں زبردستی بلاؤ، چنانچہ انہیں زبردستی لایا گیا۔ آپ نے ان سے بات کی، ان کے لیے استغفار کیا اور یہ ان کی آپس میں پہلی صلح تھی۔
اس قصہ کے شروع میں ہے کہ محض بو اور ایک گواہی سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو حد نہ ماری جب تک کہ معاملہ ثابت نہ ہو گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17516]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17517
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ طَاهِرٍ الْبَغْدَادِيُّ الْإِمَامُ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، وَأَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَمْدَانَ الْفَارِسِيُّ، قَالُوا: أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ ⦗٥٤٩⦘ سِيرِينَ، أَنَّ الْجَارُودَ، لَمَّا قَدِمَ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اسْتَعْمَلْتَ عَلَيْنَا مَنْ يَشْرَبُ الْخَمْرَ، قَالَ: وَمَنْ شُهُودُكَ؟ قَالَ: أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَتَنُكَ خَتَنُكَ، قَالَ الْأَنْصَارِيُّ: وَكَانَتْ أُخْتُ الْجَارُودِ تَحْتَ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَمَا وَاللهِ لَأُوجِعَنَّ مَتْنَهُ بِالسَّوْطِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: مَا ذَاكَ فِي الْحَقِّ أَنْ يَشْرَبَ خَتَنُكَ وَتَجْلِدَ خَتَنِي، قَالَ: وَمَنْ؟ قَالَ: عَلْقَمَةُ، فَشَهِدُوا عِنْدَهُ فَأَمَرَ بِجِلْدِهِ، وَقَالَ: مَا حَابَيْتُ فِي إِمَارَتِي أَحَدًا مُنْذُ وُلِّيتُ غَيْرَهُ، فَمَا بُورِكَ لِي فِيهِ، اذْهَبُوا فَاجْلِدُوهُ.
ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جارود رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر عامل کی شراب نوشی کی شکایت کی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے گواہ مانگا تو انہوں نے کہا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ تو تیرا سسرالی رشتہ دار ہے، سسرالی رشتہ دار ہے اور کہا کہ میں ضرور اسے کوڑے ماروں گا تو وہ کہنے لگا: یہ کیا حق ہے کہ شراب آپ کا سسرالی رشتہ دار پیے اور کوڑے میرے سسرالی رشتہ دار کو مارو۔ پوچھا: کون ہے؟ کہا: علقمہ، تو گواہی ملنے پر اسے کوڑے مارنے کا حکم دے دیا اور فرمایا: جب سے میں حاکم بنا ہوں، میں نے اپنی امارت میں اس کے سوا کسی کی طرف داری نہیں کی، اور مجھے اس میں برکت نہ ملی، جاؤ اور اسے کوڑے لگاؤ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17517]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17518
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَعْنِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، ثنا عَبْدُ اللهِ الدَّانَاجُ، حَدَّثَنِي حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ الرَّقَاشِيُّ وَهُوَ أَبُو سَاسَانَ، قَالَ: شَهِدْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأُتِيَ بِالْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ فَشَهِدَ عَلَيْهِ حُمْرَانُ وَرَجُلٌ آخَرُ، فَشَهِدَ أَحَدُهُمَا أَنَّهُ رَآهُ شَرِبَهَا، يَعْنِي الْخَمْرَ، وَشَهِدَ الْآخَرُ أَنَّهُ رَآهُ يَتَقَيَّؤُهَا، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّهُ لَمْ يَتَقَيَّأْهَا حَتَّى شَرِبَهَا، فَقَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِلْحَسَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: أَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَقَالَ: وَلِّ حَارَّهَا مَنْ تَوَلَّى قَارَّهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ: أَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ، قَالَ: فَأَخَذَ السَّوْطَ فَجَلَدَهُ، وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَعُدُّ، فَلَمَّا بَلَغَ أَرْبَعِينَ قَالَ: حَسْبُكَ،" جَلَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ أَحْسَبُهُ قَالَ: وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرْبَعِينَ، وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثَمَانِينَ، وَكُلٌّ سُنَّةٌ، وَهَذَا أَحَبُّ إِلِيَّ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهَذَا لَا أَعْلَمُ لَهُ تَأْوِيلًا يَصِحُّ غَيْرَ أَنَّهُ قَبِلَ الشَّهَادَةَ عَلَيْهِ هَكَذَا، وَمَنْ يُخَالِفُهُ يَقُولُ: لَمْ تَجْتَمِعْ شَهَادَتُهُمَا عَلَى شُرْبِهِ، وَقَدْ يُكْرَهُ عَلَى الشُّرْبِ فَيَتَقَيَّأُهَا قَالَ الشَّافِعِيُّ: فِي نَظِيرِ هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ وَمَغِيبِ الْمَعْنَى لَا يُحَدُّ فِيهِ أَحَدٌ وَلَا يُعَاقَبُ، إِنَّمَا يُعَاقَبُ النَّاسُ عَلَى الْيَقِينِ.
ابو ساسان کہتے ہیں کہ میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ ولید بن عقبہ کو لایا گیا، اس پر حمران اور ایک (دوسرے) شخص نے گواہی دی تھی کہ اس نے شراب پی ہے، دوسرے شخص نے یہ گواہی دی تھی کہ اسے قے کرتے دیکھا تھا، تو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بغیر پیے تو قے آتی ہی نہیں ہے۔ اے علی! اسے حد لگاؤ۔“ تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو کہا تو سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جو اس کی نرمی (عہدے کے فائدے) کا والی بنا ہے، اس کی سختی میں بھی وہی (ذمہ دار) ہے۔“ پھر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کو کہا تو انہوں نے حد قائم کر دی، جب چالیس کوڑے پورے ہو گئے تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے روک دیا اور کہا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ۴۰ کوڑے لگائے ہیں اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ۸۰، یہ سب سنت ہیں لیکن یہ (چالیس) مجھے زیادہ محبوب ہیں۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب تک یقین نہ ہو اس وقت تک حد قائم نہ کی جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17518]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں