🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3508. -- باب: الإمام فيما يؤدب إن رأى تركه تركه
-- باب: امام (حکمران) تادیب (تعزیر) کے معاملات میں اگر چھوڑ دینا مناسب سمجھے تو اسے ترک کر دے، اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q17552
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: أَلَا تَرَى أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَنَّهُمْ غَلُّوا فِي سَبِيلِ اللهِ، فَلَمْ يُعَاقِبْهُمْ، وَلَوْ كَانَتِ الْعُقُوبَةُ تَلْزَمُ لُزُومَ الْحَدِّ مَا تَرَكَهُمْ، كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَطَعَ امْرَأَةً لَهَا شَرَفٌ فَكُلِّمَ فِيهَا: لَوْ سَرَقَتْ فُلَانَةٌ لِامْرَأَةٍ شَرِيفَةٍ لَقَطَعْتُ يَدَهَا.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیا تم نہیں دیکھتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ لوگوں کے بارے میں ظاہر ہو گیا کہ انہوں نے اللہ کی راہ (کے مال غنیمت) میں خیانت کی ہے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سزا نہیں دی، اور اگر (تعزیری) سزا بھی حد کی طرح لازم ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں نہ چھوڑتے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک معزز (خاندان کی) عورت کا ہاتھ کاٹا اور اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’اگر فلاں عورت، (یعنی) کسی معزز عورت نے بھی چوری کی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔‘“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: Q17552]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17552
حَدَّثَنَا الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ يَعْنِي عَبْدَ اللهِ بْنَ شَوْذَبٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَ غَنِيمَةً" أَمَرَ بِلَالًا فَنَادَى ثَلَاثًا، فَيَرْفَعُ النَّاسُ مَا أَصَابُوا، ثُمَّ يَأْمُرُ بِهِ فَيُخَمَّسُ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ بِزِمَامٍ مِنْ شَعْرٍ وَقَدْ قُسِّمَتِ الْغَنِيمَةُ فَقَالَ:" هَلْ سَمِعْتَ بِلَالًا يُنَادِي ثَلَاثًا؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَ بِهِ؟" فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ:" كُنْ أَنْتَ الَّذِي تُوَافِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَإِنِّي لَنْ أَقْبَلَهُ مِنْكَ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَوْذَبٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غنیمت کا مال ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ تین دفعہ منادی کر دو کہ جس کے پاس جو ہے سارا جمع کروا دو۔ لوگ لے آئے۔ پھر اس سے خمس نکالا تو اتنے میں ایک شخص لگام لایا جو بالوں سے بنائی گئی تھی۔ اس وقت تک غنیمت تقسیم ہو چکی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تو نے بلال کی منادی سنی تھی؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”پھر پہلے کیوں نہیں لائے تھے؟“ اس نے عذر پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب میں اسے قبول نہیں کروں گا، قیامت کے دن تجھے یہ ادا کرنی پڑے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأشربة والحد فيها/حدیث: 17552]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17552 in Urdu