السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3508. -- باب: الإمام فيما يؤدب إن رأى تركه تركه
-- باب: امام (حکمران) تادیب (تعزیر) کے معاملات میں اگر چھوڑ دینا مناسب سمجھے تو اسے ترک کر دے، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: Q17552
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: أَلَا تَرَى أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَنَّهُمْ غَلُّوا فِي سَبِيلِ اللهِ، فَلَمْ يُعَاقِبْهُمْ، وَلَوْ كَانَتِ الْعُقُوبَةُ تَلْزَمُ لُزُومَ الْحَدِّ مَا تَرَكَهُمْ، كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَطَعَ امْرَأَةً لَهَا شَرَفٌ فَكُلِّمَ فِيهَا: لَوْ سَرَقَتْ فُلَانَةٌ لِامْرَأَةٍ شَرِيفَةٍ لَقَطَعْتُ يَدَهَا.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیا تم نہیں دیکھتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ لوگوں کے بارے میں ظاہر ہو گیا کہ انہوں نے اللہ کی راہ (کے مال غنیمت) میں خیانت کی ہے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سزا نہیں دی، اور اگر (تعزیری) سزا بھی حد کی طرح لازم ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں نہ چھوڑتے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک معزز (خاندان کی) عورت کا ہاتھ کاٹا اور اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفارش کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’اگر فلاں عورت، (یعنی) کسی معزز عورت نے بھی چوری کی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔‘“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: Q17552]
حدیث نمبر: 17552
حَدَّثَنَا الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ يَعْنِي عَبْدَ اللهِ بْنَ شَوْذَبٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَ غَنِيمَةً" أَمَرَ بِلَالًا فَنَادَى ثَلَاثًا، فَيَرْفَعُ النَّاسُ مَا أَصَابُوا، ثُمَّ يَأْمُرُ بِهِ فَيُخَمَّسُ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ بِزِمَامٍ مِنْ شَعْرٍ وَقَدْ قُسِّمَتِ الْغَنِيمَةُ فَقَالَ:" هَلْ سَمِعْتَ بِلَالًا يُنَادِي ثَلَاثًا؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَ بِهِ؟" فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ:" كُنْ أَنْتَ الَّذِي تُوَافِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَإِنِّي لَنْ أَقْبَلَهُ مِنْكَ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَوْذَبٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غنیمت کا مال ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ تین دفعہ منادی کر دو کہ جس کے پاس جو ہے سارا جمع کروا دو۔ لوگ لے آئے۔ پھر اس سے خمس نکالا تو اتنے میں ایک شخص لگام لایا جو بالوں سے بنائی گئی تھی۔ اس وقت تک غنیمت تقسیم ہو چکی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تو نے بلال کی منادی سنی تھی؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”پھر پہلے کیوں نہیں لائے تھے؟“ اس نے عذر پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب میں اسے قبول نہیں کروں گا، قیامت کے دن تجھے یہ ادا کرنی پڑے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17552]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 17553
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: أَصَابَ رَجُلٌ مِنِ امْرَأَةٍ شَيْئًا دُونَ الْفَاحِشَةِ، فَأَتَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَعَظُمَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَتَى أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَعَظُمَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا أَدْرِي أَعَظُمَ عَلَيْهِ أَمْ لَا، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ} [هود: ١١٤] ، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَلِي هَذِهِ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ:" هِيَ لِمَنْ أَخَذَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ التَّيْمِيِّ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عورت سے ملامست کر لی، دخول نہیں کیا، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے اسے بہت بڑا گناہ جانا، پھر وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی یہی کیا، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، (راوی کہتے ہیں:) مجھے معلوم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے بڑا جانا یا نہیں، تو یہ آیت اتری: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ ۚ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ﴾ [سورة هود: 114] ”دن کے اطراف میں اور رات کے اندھیرے میں نماز قائم کرو، بیشک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں“ تو اس آدمی نے کہا: ”یا رسول اللہ! کیا یہ صرف میرے لیے ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میری امت میں سے ہر اس شخص کے لیے ہے جو اس پر عمل کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17553]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 17554
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَأنا ابْنُ جُرَيْجٍ، وَابْنُ أَبِي سَبْرَةَ، قَالَا:" تَشَاتَمَ رَجُلَانِ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَمْ يَقُلْ لَهُمَا شَيْئًا، وَتَشَاتَمَا عِنْدَ عُمَرَ فَأَدَّبَهُمَا".
ابن جریج اور ابن ابی سبرہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس دو آدمیوں نے ایک دوسرے کو گالیاں دیں تو آپ نے کچھ نہ کہا؛ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس دیں تو آپ نے انہیں ادب سکھانے کے لیے سزا دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الأَشْرِبَةِ وَالحَدِّ فِيهَا/حدیث: 17554]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف