السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3582. -- باب: قسمة الغنيمة في دار الحرب
-- باب: دار الحرب میں مالِ غنیمت کی تقسیم کا بیان۔
حدیث نمبر: 17975
وَأَمَّا بَعْثُهُ الْوَلِيدَ مُصَدِّقًا فَفِيمَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ ⦗٩٤⦘ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي سَعْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي عَمِّي الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ لِيَأْخُذَ مِنْهُمُ الصَّدَقَاتِ، وَأَنَّهُ لَمَّا أَتَاهُمُ الْخَبَرُ فَرِحُوا وَخَرَجُوا لِيَتَلَقَّوْا رَسُولَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّهُ لَمَّا حُدِّثَ الْوَلِيدُ أَنَّهُمْ خَرَجُوا يَتَلَقَّوْنَهُ رَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ بَنِي الْمُصْطَلِقِ قَدْ مَنَعُوا الصَّدَقَةَ. فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ غَضَبًا شَدِيدًا، فَبَيْنَمَا هُوَ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ أَنْ يَغْزُوَهُمْ إِذْ أَتَاهُ الْوَفْدُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا حُدِّثْنَا أَنَّ رَسُولَكَ رَجَعَ مِنْ نِصْفِ الطَّرِيقِ، وَإِنَّا خَشِينَا أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا رَدَّهُ كِتَابٌ جَاءَهُ مِنْكَ لِغَضَبٍ غَضِبْتَهُ عَلَيْنَا، وَإِنَّا نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ غَضَبِ اللهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ، وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْتَبَهُمْ وَهَمَّ بِهِمْ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عُذْرَهُمْ فِي الْكِتَابِ، فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ} [الحجرات: ٦] ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ولید بن عقبہ کو صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجنے کے بارے میں بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ بن ابی معیط کو بنو مصطلق کی طرف صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ جب ان کے پاس ان کے آنے کی خبر آئی تو وہ خوش ہوئے اور اس کا استقبال کرنے کے لیے نکلے تاکہ اللہ کے رسول کے قاصد کا استقبال کریں، جب ولید رضی اللہ عنہ کو بتایا گیا کہ وہ استقبال کے لیے آ رہے ہیں تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹ گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! انہوں نے زکوۃ کو روک لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (یہ سن کر) ناراض ہوئے، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے لڑائی کا سوچ رہے تھے کہ بنو مصطلق کا وفد آگیا۔ انہوں نے کہا: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ کا قاصد آدھا سفر کر کے واپس چلا گیا ہے، ہم ڈرے کہ اس کا لوٹنا آپ کے کسی غصے کی وجہ سے ہے جو آپ کو ہم پر آیا ہو، اور ہم اللہ اور اس کے رسول کے غصے سے بچنے کے لیے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے (اپنا ارادہ) چھپا رہے تھے اور ان پر حملے کا ارادہ رکھتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کا عذر نازل فرما دیا، ارشاد فرمایا: ﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا إِنْ جَاءَکُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَیَّنُوا أَنْ تُصِیبُوا قَوْمًا بِجَہَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِیْنَ﴾ [سورة الحجرات: 6] ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو لاعلمی کی وجہ سے نقصان پہنچا دو، پھر جو تم نے کیا اس پر پشیمان ہو جاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17975]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدًا»
الحكم على الحديث: ضعيف جدًا
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17975 in Urdu