🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3582. -- باب: قسمة الغنيمة في دار الحرب
-- باب: دار الحرب میں مالِ غنیمت کی تقسیم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17972
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الدُّعَاءِ قَبْلَ الْقِتَالِ، قَالَ: فَكَتَبَ: إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ قَدْ أَغَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ، وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَى عَلَى الْمَاءِ، فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ وَسَبَى سَبْيَهُمْ وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ". قَالَ يَحْيَى: أَحْسِبُهُ قَالَ: جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ. وَحَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ.
ابن عون رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے نافع رحمہ اللہ سے لڑائی سے پہلے (اسلام کی) دعوت دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے لکھا: یہ ابتداے اسلام میں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق پر اچانک حملہ کیا جبکہ وہ غافل تھے، ان کے جانوروں کو پانی پلایا جا رہا تھا۔ ان کے لڑائی کے قابل لوگوں کو قتل کر دیا گیا اور ان کے بال بچوں کو قیدی بنا لیا گیا اور اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا ملیں (یحییٰ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے جویریہ بنت حارث کہا)۔ (نافع کہتے ہیں:) یہ حدیث مجھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کی اور وہ اس لشکر میں شامل تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17972]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17973
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الصُّوفِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ وَهَذَا حَدِيثُهُ، ثنا قُتَيْبَةُ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرَ، عَنْ رَبِيعَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو صِرْمَةَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَأَلَهُ أَبُو صِرْمَةُ، فَقَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْعَزْلَ؟ قَالَ: نَعَمْ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْمُصْطَلِقِ فَسَبَيْنَا كَرَائِمَ الْعَرَبِ وَطَالَتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ وَرَغِبْنَا فِي الْفِدَاءِ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَسْتَمْتِعَ وَنَعْزِلَ، فَقُلْنَا نَفْعَلُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَلَا نَسْأَلُهُ، فَسَأَلْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا، مَا كَتَبَ اللهُ خَلْقَ نَسَمَةٍ هِيَ كَائِنَةٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا سَتَكُونُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةَ، وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ قَسَّمَ بَيْنَهُمْ غَنَائِمَهُمْ قَبْلَ الرُّجُوعِ إِلَى الْمَدِينَةِ، كَمَا قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ، وَالشَّافِعِيُّ: قَالَ أَبُو يُوسُفَ: افْتَتَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَادَ بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَظَهَرَ عَلَيْهِمْ، فَصَارَتْ بِلَادُهُمْ دَارَ الْإِسْلَامِ، وَبَعَثَ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ يَأْخُذُ صَدَقَاتِهِمْ. قَالَ الشَّافِعِيُّ مُجِيبًا لَهُ عَنْ ذَلِكَ:" أَغَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ غَارُّونَ فِي نِعَمِهِمْ، فَقَتَلَهُمْ وَسَبَاهُمْ، وَقَسَمَ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ فِي دَارِهِمْ سَنَةَ خَمْسٍ، وَإِنَّمَا أَسْلَمُوا بَعْدَهَا بِزَمَانٍ، وَإِنَّمَا بَعَثَ إِلَيْهِمُ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ مُصَدِّقًا سَنَةَ عَشْرٍ، وَقَدْ رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمْ، وَدَارُهُمْ دَارُ حَرْبٍ". قَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا قَوْلُهُ:" إِنَّ ذَلِكَ كَانَ سَنَةَ خَمْسٍ فَكَذَلِكَ قَالَهُ عُرْوَةُ، وَابْنُ شِهَابٍ".
ابو صرمہ رضی اللہ عنہ نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عزل کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم غزوہ بنی مصطلق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ہم نے معززین عرب کو قیدی بنایا اور اپنے گھر سے دوری طویل ہو رہی تھی اور ہمیں فدیہ کی رغبت تھی، تو ہم چاہتے تھے کہ فائدہ حاصل کریں اور عزل کریں، تو ہم نے کہا: ہم عزل کریں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں اور ہم ان سے سوال نہ کریں؟ ہم نے سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر کوئی حرج نہیں اگر نہ کرو، جس جان کے پیدا ہونے کا اللہ نے لکھ دیا کہ وہ پیدا ہونے والی ہے، قیامت تک وہ پیدا ہو کر رہے گی۔“
اس میں دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ آنے سے پہلے مال غنیمت کو تقسیم کیا ہے جیسا کہ امام اوزاعی اور امام شافعی رحمہما اللہ کا موقف ہے۔ ابو یوسف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بنو مصطلق کو فتح کیا اور ان پر غالب ہوئے تو ان کا علاقہ دار الاسلام میں شامل ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ کو ان سے زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے روانہ کیا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے ابو یوسف رحمہ اللہ کا رد کرتے ہوئے جواب دیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر حملہ کیا جبکہ وہ اپنے جانوروں میں مشغول تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قتل کیا اور قیدی بنایا اور مالوں اور قیدیوں کو تقسیم کیا گیا۔ یہ ان کے علاقہ میں پانچ ہجری میں ہوا، جبکہ وہ اس کے کافی عرصہ بعد مسلمان ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا اور یہ دس ہجری کا وقت ہے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فارغ ہو کر لوٹے تو وہ ابھی دشمن کا علاقہ تھا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ پانچ ہجری کو ہوا، اسی طرح عروہ اور ابن شہاب رحمہما اللہ کہتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17973]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17974
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، ح، قَالَ: وَثَنَا يَعْقُوبُ، وَثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فِي ذِكْرِ مَغَازِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ثُمَّ قَاتَلَ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، وَبَنِي لِحْيَانَ فِي شَعْبَانَ سَنَةَ خَمْسٍ. وَهَذَا أَصَحُّ مِمَّا رُوِيَ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ سَنَةَ سِتٍّ".
ابن شہاب رحمہ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ بنو مصطلق اور بنو لحیان کے غزوات شعبان پانچ ہجری کو ہوئے ہیں۔ یہ ابن اسحاق رحمہ اللہ کی روایت سے زیادہ صحیح ہے جس میں چھ ہجری بتایا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17974]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17975
وَأَمَّا بَعْثُهُ الْوَلِيدَ مُصَدِّقًا فَفِيمَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ ⦗٩٤⦘ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي سَعْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي عَمِّي الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ لِيَأْخُذَ مِنْهُمُ الصَّدَقَاتِ، وَأَنَّهُ لَمَّا أَتَاهُمُ الْخَبَرُ فَرِحُوا وَخَرَجُوا لِيَتَلَقَّوْا رَسُولَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّهُ لَمَّا حُدِّثَ الْوَلِيدُ أَنَّهُمْ خَرَجُوا يَتَلَقَّوْنَهُ رَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ بَنِي الْمُصْطَلِقِ قَدْ مَنَعُوا الصَّدَقَةَ. فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ غَضَبًا شَدِيدًا، فَبَيْنَمَا هُوَ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ أَنْ يَغْزُوَهُمْ إِذْ أَتَاهُ الْوَفْدُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا حُدِّثْنَا أَنَّ رَسُولَكَ رَجَعَ مِنْ نِصْفِ الطَّرِيقِ، وَإِنَّا خَشِينَا أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا رَدَّهُ كِتَابٌ جَاءَهُ مِنْكَ لِغَضَبٍ غَضِبْتَهُ عَلَيْنَا، وَإِنَّا نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ غَضَبِ اللهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ، وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْتَبَهُمْ وَهَمَّ بِهِمْ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عُذْرَهُمْ فِي الْكِتَابِ، فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ} [الحجرات: ٦] ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ولید بن عقبہ کو صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجنے کے بارے میں بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ بن ابی معیط کو بنو مصطلق کی طرف صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ جب ان کے پاس ان کے آنے کی خبر آئی تو وہ خوش ہوئے اور اس کا استقبال کرنے کے لیے نکلے تاکہ اللہ کے رسول کے قاصد کا استقبال کریں، جب ولید رضی اللہ عنہ کو بتایا گیا کہ وہ استقبال کے لیے آ رہے ہیں تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹ گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! انہوں نے زکوۃ کو روک لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (یہ سن کر) ناراض ہوئے، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے لڑائی کا سوچ رہے تھے کہ بنو مصطلق کا وفد آگیا۔ انہوں نے کہا: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ کا قاصد آدھا سفر کر کے واپس چلا گیا ہے، ہم ڈرے کہ اس کا لوٹنا آپ کے کسی غصے کی وجہ سے ہے جو آپ کو ہم پر آیا ہو، اور ہم اللہ اور اس کے رسول کے غصے سے بچنے کے لیے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے (اپنا ارادہ) چھپا رہے تھے اور ان پر حملے کا ارادہ رکھتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کا عذر نازل فرما دیا، ارشاد فرمایا: ﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا إِنْ جَاءَکُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَیَّنُوا أَنْ تُصِیبُوا قَوْمًا بِجَہَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِیْنَ﴾ [سورة الحجرات: 6] ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو لاعلمی کی وجہ سے نقصان پہنچا دو، پھر جو تم نے کیا اس پر پشیمان ہو جاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17975]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدًا»

الحكم على الحديث: ضعيف جدًا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17976
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ:" أَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ لِيُصَدِّقَهُمْ، فَتَلَقَّوْهُ بِالْهَدِيَّةِ، فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ بَنِي الْمُصْطَلِقِ قَدْ أَجْمَعُوا لَكَ لِيُقَاتِلُوكَ. فَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَيَّنُوا} [الحجرات: ٦] الْآيَةَ. قَالَ الشَّيْخُ:" وَالَّذِي يُسْتَدَلُّ بِهِ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ كَانَ بَعْدَ غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ بِمُدَّةٍ كَثِيرَةٍ وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ سَنَةَ عَشْرٍ، كَمَا حَفِظَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ كَانَ زَمَنَ الْفَتْحِ صَبِيًّا، وَذَلِكَ سَنَةَ ثَمَانٍ، وَلَا يَبْعَثُهُ مُصَدِّقًا إِلَّا بَعْدَ أَنْ يَصِيرَ رَجُلًا".
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہ کو بنو مصطلق کی طرف صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ انہوں نے تحائف لے کر ان کا استقبال کیا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹ گئے اور کہا کہ بنو مصطلق نے آپ کے قتل کا ارادہ کیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا﴾ [سورة الحجرات: 6] ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کرلو“
شیخ نے فرمایا: جس سے دلیل لی گئی کہ یہ غزوہ بنی مصطلق کے کافی عرصہ بعد ہوا ہے اور غالباً یہ دس ہجری کا واقعہ ہے جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے ذہن میں رکھا وہ یہ ہے کہ ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے وقت بچے تھے جبکہ فتح مکہ آٹھ ہجری میں ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس وقت بھیجا تھا جب وہ جوان ہو گئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17976]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17977
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةِ، قَالَ: لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ جَعَلَ أَهْلُ مَكَّةَ يَأْتُونَهُ بِصِبْيَانِهِمْ فَيَمْسَحُ رُءُوسَهُمْ وَيَدْعُو لَهُمْ، فَجِيءَ بِي إِلَيْهِ وَقَدْ خُلِّقْتُ بِالْخَلُوقِ، فَلَمَّا رَآنِي لَمْ يَمْسَسْنِي وَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ ذَلِكَ إِلَّا الْخَلُوقُ الَّذِي خَلَّقَتْنِي أُمِّي". ⦗٩٥⦘.
سیدنا ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو مکہ والے اپنے بچوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لاتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سر پر ہاتھ پھیرتے اور ان کے لیے دعا کرتے۔ مجھے بھی لایا گیا، میرے سر پر زعفران کی خوشبو لگائی گئی تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو مجھے نہ چھوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زعفرانی خوشبو کی وجہ سے مجھے ہاتھ نہ لگایا جو میری ماں نے لگائی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17977]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17978
وَحَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا فَيَّاضُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ الْكِلَابِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ:" لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ. قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ:" وَقَدْ رُوِيَ أَنَّهُ سَلَحَ يَوْمَئِذٍ فَتَقَذَّرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَمَسَّهُ، وَلَمْ يَدْعُ لَهُ، وَمُنِعَ بَرَكَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَابِقِ عِلْمِ اللهِ فِيهِ".
ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا (باقی حدیث پہلی سند والی ہے)۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اس نے اس دن پاخانہ کر دیا، اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا، پھر اس کو نہ چھوا اور نہ اس کے لیے دعا فرمائی۔ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے منع کیا گیا کیونکہ اللہ کو اس کے بارے میں پہلے سے علم تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17978]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17979
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسَدَّدٌ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، وَثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الصُّبْحَ بِغَلَسٍ، ثُمَّ رَكِبَ، فَقَالَ:" اللهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ". فَخَرَجُوا يَسْعَوْنَ فِي السِّكَكِ وَهُمْ يَقُولُونَ: مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ. قَالَ مُسَدَّدٌ: قَالَ حَمَّادٌ: وَالْخَمِيسُ الْجَيْشُ، فَظَهَرَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَتَلَ الْمُقَاتِلَةَ وَسَبَى الذَّرَارِيَّ، فَصَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، ثُمَّ صَارَتْ صَفِيَّةُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا وَجَعَلَ صَدَاقَهَا عِتْقَهَا. قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ لِثَابِتٍ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَنْتَ سَأَلْتَ أَنَسًا مَا أَمْهَرَهَا؟ فَقَالَ أَمْهَرَهَا نَفْسَهَا. فَتَبَسَّمَ. ⦗٩٦⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور فرمایا: «اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ» ”اللہ اکبر، خیبر برباد ہو گیا، جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے گئے لوگوں کی یہ صبح بہت بری ہوتی ہے۔“ وہ لوگ نکلے، گلیوں میں چل رہے تھے اور کہہ رہے تھے: ”محمد اور ان کا لشکر۔“ حماد کہتے ہیں: خمیس لشکر کو کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر غلبہ حاصل کیا اور جوانوں کو قتل کیا اور بچوں کو قیدی بنایا۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا، سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں، پھر ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں دے دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا اور آزادی کو حق مہر قرار دیا۔ عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ثابت رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا تو نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہر کیا رکھا؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا مہر ان کے نفس کی آزادی رکھا تھا، تو وہ مسکرا دیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17979]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17980
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَا: ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ح، قَالَ: وَأنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا بَهْزٌ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، ثنا أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ فِي مَقْسَمِهِ، وَجَعَلُوا يَمْدَحُونَهَا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقُولُونَ مَا رَأَيْنَا فِي السَّبْيِ مِثْلَهَا. قَالَ: فَبَعَثَ إِلَى دِحْيَةَ فَأَعْطَاهُ بِهَا مَا أَرَادَ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّي، فَقَالَ: أَصْلِحِيهَا. قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ حَتَّى جَعَلَهَا فِي ظَهْرِهِ، نَزَلَ ثُمَّ ضَرَبَ عَلَيْهَا الْقُبَّةَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالَ:" مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلُ زَادٍ فَلْيَأْتِنَا بِهِ". قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِفَضْلِ التَّمْرِ، وَفَضَلِ السَّوِيقِ، وَفَضَلِ السَّمْنِ، حَتَّى جَعَلُوا مِنْ ذَلِكَ سَوَادًا حَيْسًا، فَجَعَلُوا يَأْكُلُونَ مِنْ ذَلِكَ الْحَيْسِ، وَيَشْرَبُونَ مِنْ حِيَاضٍ إِلَى جَنْبِهِمْ مِنْ مَاءِ السَّمَاءِ. قَالَ: فَقَالَ أَنَسٌ: وَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا. قَالَ: فَانْطَلَقْنَا حَتَّى إِذَا رَأَيْنَا جُدُرَ الْمَدِينَةِ مَشَيْنَا إِلَيْهَا، فَرَفَعْنَا مَطِيَّتَنَا، وَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطِيَّتَهُ. قَالَ: وَصَفِيَّةُ خَلْفَهُ قَدْ أَرْدَفَهَا، فَعَثَرَتْ مَطِيَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصُرِعَ وَصُرِعَتْ. قَالَ: فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وَلَا إِلَيْهَا حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُهَا. قَالَ: فَأَتَيْنَاهُ، فَقَالَ: لَمْ نُضَرَّ. قَالَ: فَدَخَلْنَا الْمَدِينَةَ فَخَرَجَ جَوَارِي نِسَائِهِ يَتَرَاءَيْنَهَا وَيَشْمَتْنَ بِصَرْعَتِهَا". لَفْظُ حَدِيثِ بَهْزِ بْنِ أَسَدٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ هَاشِمٍ، وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى وُقُوعِ قِسْمَةِ غَنِيمَةِ خَيْبَرَ بِخَيْبَرَ. قَالَ أَبُو يُوسُفَ: إِنَّهَا حِينَ افْتَتَحَهَا صَارَتْ دَارَ إِسْلَامٍ وَعَامَلَهُمْ عَلَى النَّخْلِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ:" أَمَّا خَيْبَرُ فَمَا عَلِمْتُهُ كَانَ فِيهَا مُسْلِمٌ وَاحِدٌ مَا صَالَحَ إِلَّا الْيَهُودَ، وَهُمْ عَلَى دِينِهِمْ، وَمَا حَوْلَ خَيْبَرَ كُلُّهُ دَارُ حَرْبٍ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: غنیمت کی تقسیم میں سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا، سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں۔ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کی تعریف کرنے لگے اور وہ کہتے تھے: ”ہم نے قیدیوں میں ان جیسا نہیں دیکھا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ کی طرف قاصد بھیجا اور انہیں سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے بدلے میں کچھ عطا فرمایا، پھر انہیں (سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو) میری والدہ کے پاس بھیجا اور فرمایا: ”ان کا معاملہ درست کرو۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے نکلے، جب وہ پیچھے رہ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ لگایا گیا۔ جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس زائد زادِ راہ ہو وہ لائے۔“ پس لوگ چیزیں لانا شروع ہوئے، کھجوریں، ستو اور گھی لایا گیا۔ جب یہ کھانے کا ایک بڑا ڈھیر بن گیا تو لوگ اس میں سے کھانے لگے اور وہ اپنے حوضوں میں جمع شدہ اس پانی سے پینے لگے جو آسمانی بارش سے جمع ہوا تھا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ولیمہ تھا جو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح پر کیا گیا تھا۔ پھر ہم نکلے یہاں تک کہ ہم نے مدینہ کی دیواروں کو دیکھنا شروع کیا، ہم ان کی طرف بڑھے، ہم نے اپنی سواریوں کو تیز کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی سواری کو تیز کیا، جبکہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پیچھے بٹھایا ہوا تھا۔ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پھسل گئی، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا گر پڑے۔ ہم میں سے کسی نے نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا اور نہ ہی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی طرف، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر پردہ ڈال دیا۔ پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیں چوٹ نہیں آئی۔“ جب ہم مدینہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کی لونڈیاں نکلیں، وہ انہیں دیکھنے کی کوشش کر رہی تھیں اور ان کے گرنے پر خوش ہو رہی تھیں۔
اس میں دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی غنیمت کو خیبر ہی میں تقسیم کیا تھا۔ ابو یوسف رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب خیبر کو فتح کر لیا گیا تو وہ دار الاسلام بن گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں پر ان کو عامل مقرر کیا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے علم نہیں کہ وہاں کوئی ایک بھی مسلمان تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہود سے مصالحت کی تھی، وہ اپنے دین پر قائم تھے اور خیبر کے ارد گرد کا علاقہ بھی دشمن کا علاقہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17980]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17981
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَامَلَ يَهُودَ خَيْبَرَ عَلَى أَنَّا نُخْرِجُهُمْ إِذَا شِئْنَا، فَمَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَلْيَلْحَقْ بِهِ، وَإِنِّي مُخْرِجٌ يَهُودَ فَأَخْرَجَهُمْ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اے لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے اس بات پر معاملہ طے کیا کہ ”ہم جب چاہیں گے ان کو نکال دیں گے۔“ جس کا کوئی مال ہو وہ اس کو تابع کرلے، میں یہود کو نکال رہا ہوں، پھر آپ نے ان کو نکال دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ السِّيَرِ/حدیث: 17981]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں