السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3582. -- باب: قسمة الغنيمة في دار الحرب
-- باب: دار الحرب میں مالِ غنیمت کی تقسیم کا بیان۔
حدیث نمبر: 17980
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَا: ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ح، قَالَ: وَأنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا بَهْزٌ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، ثنا أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ فِي مَقْسَمِهِ، وَجَعَلُوا يَمْدَحُونَهَا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقُولُونَ مَا رَأَيْنَا فِي السَّبْيِ مِثْلَهَا. قَالَ: فَبَعَثَ إِلَى دِحْيَةَ فَأَعْطَاهُ بِهَا مَا أَرَادَ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّي، فَقَالَ: أَصْلِحِيهَا. قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ حَتَّى جَعَلَهَا فِي ظَهْرِهِ، نَزَلَ ثُمَّ ضَرَبَ عَلَيْهَا الْقُبَّةَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالَ:" مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلُ زَادٍ فَلْيَأْتِنَا بِهِ". قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِفَضْلِ التَّمْرِ، وَفَضَلِ السَّوِيقِ، وَفَضَلِ السَّمْنِ، حَتَّى جَعَلُوا مِنْ ذَلِكَ سَوَادًا حَيْسًا، فَجَعَلُوا يَأْكُلُونَ مِنْ ذَلِكَ الْحَيْسِ، وَيَشْرَبُونَ مِنْ حِيَاضٍ إِلَى جَنْبِهِمْ مِنْ مَاءِ السَّمَاءِ. قَالَ: فَقَالَ أَنَسٌ: وَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا. قَالَ: فَانْطَلَقْنَا حَتَّى إِذَا رَأَيْنَا جُدُرَ الْمَدِينَةِ مَشَيْنَا إِلَيْهَا، فَرَفَعْنَا مَطِيَّتَنَا، وَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطِيَّتَهُ. قَالَ: وَصَفِيَّةُ خَلْفَهُ قَدْ أَرْدَفَهَا، فَعَثَرَتْ مَطِيَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصُرِعَ وَصُرِعَتْ. قَالَ: فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وَلَا إِلَيْهَا حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُهَا. قَالَ: فَأَتَيْنَاهُ، فَقَالَ: لَمْ نُضَرَّ. قَالَ: فَدَخَلْنَا الْمَدِينَةَ فَخَرَجَ جَوَارِي نِسَائِهِ يَتَرَاءَيْنَهَا وَيَشْمَتْنَ بِصَرْعَتِهَا". لَفْظُ حَدِيثِ بَهْزِ بْنِ أَسَدٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ هَاشِمٍ، وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى وُقُوعِ قِسْمَةِ غَنِيمَةِ خَيْبَرَ بِخَيْبَرَ. قَالَ أَبُو يُوسُفَ: إِنَّهَا حِينَ افْتَتَحَهَا صَارَتْ دَارَ إِسْلَامٍ وَعَامَلَهُمْ عَلَى النَّخْلِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ:" أَمَّا خَيْبَرُ فَمَا عَلِمْتُهُ كَانَ فِيهَا مُسْلِمٌ وَاحِدٌ مَا صَالَحَ إِلَّا الْيَهُودَ، وَهُمْ عَلَى دِينِهِمْ، وَمَا حَوْلَ خَيْبَرَ كُلُّهُ دَارُ حَرْبٍ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: غنیمت کی تقسیم میں سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا، سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں۔ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کی تعریف کرنے لگے اور وہ کہتے تھے: ”ہم نے قیدیوں میں ان جیسا نہیں دیکھا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ کی طرف قاصد بھیجا اور انہیں سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے بدلے میں کچھ عطا فرمایا، پھر انہیں (سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو) میری والدہ کے پاس بھیجا اور فرمایا: ”ان کا معاملہ درست کرو۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے نکلے، جب وہ پیچھے رہ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ لگایا گیا۔ جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس زائد زادِ راہ ہو وہ لائے۔“ پس لوگ چیزیں لانا شروع ہوئے، کھجوریں، ستو اور گھی لایا گیا۔ جب یہ کھانے کا ایک بڑا ڈھیر بن گیا تو لوگ اس میں سے کھانے لگے اور وہ اپنے حوضوں میں جمع شدہ اس پانی سے پینے لگے جو آسمانی بارش سے جمع ہوا تھا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ولیمہ تھا جو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح پر کیا گیا تھا۔ پھر ہم نکلے یہاں تک کہ ہم نے مدینہ کی دیواروں کو دیکھنا شروع کیا، ہم ان کی طرف بڑھے، ہم نے اپنی سواریوں کو تیز کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی سواری کو تیز کیا، جبکہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پیچھے بٹھایا ہوا تھا۔ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پھسل گئی، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا گر پڑے۔ ہم میں سے کسی نے نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا اور نہ ہی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی طرف، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر پردہ ڈال دیا۔ پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیں چوٹ نہیں آئی۔“ جب ہم مدینہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کی لونڈیاں نکلیں، وہ انہیں دیکھنے کی کوشش کر رہی تھیں اور ان کے گرنے پر خوش ہو رہی تھیں۔
اس میں دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی غنیمت کو خیبر ہی میں تقسیم کیا تھا۔ ابو یوسف رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب خیبر کو فتح کر لیا گیا تو وہ دار الاسلام بن گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں پر ان کو عامل مقرر کیا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے علم نہیں کہ وہاں کوئی ایک بھی مسلمان تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہود سے مصالحت کی تھی، وہ اپنے دین پر قائم تھے اور خیبر کے ارد گرد کا علاقہ بھی دشمن کا علاقہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17980]
اس میں دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی غنیمت کو خیبر ہی میں تقسیم کیا تھا۔ ابو یوسف رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب خیبر کو فتح کر لیا گیا تو وہ دار الاسلام بن گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں پر ان کو عامل مقرر کیا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے علم نہیں کہ وہاں کوئی ایک بھی مسلمان تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہود سے مصالحت کی تھی، وہ اپنے دین پر قائم تھے اور خیبر کے ارد گرد کا علاقہ بھی دشمن کا علاقہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17980]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17980 in Urdu