🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3582. -- باب: قسمة الغنيمة في دار الحرب
-- باب: دار الحرب میں مالِ غنیمت کی تقسیم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17987
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، وَحَسَّانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَا: ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا وَلَمْ يَشْهَدْهَا، ثُمَّ ضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ، فَمَنْ لَمْ يَشْهَدْهَا، وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، تَخَلَّفَ بِالْمَدِينَةِ عَلَى امْرَأَتِهِ رُقَيَّةَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ وَجِعَةً ⦗٩٩⦘ فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ، قَالَ: وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" وَأَجْرُكَ" وَطَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ كَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: كَانَ بِالشَّامِ فَقَدِمَ فَكَلَّمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ، فَقَالَ: وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ:" وَأَجْرُكَ" وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، قَدِمَ مِنَ الشَّامِ بَعْدَ مَا رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَضَرَبَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ، فَقَالَ: وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" وَأَجْرُكَ". فَهَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَأَمَّا مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَبُو لُبَابَةَ خَرَجَ زَعَمُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ، فَأَمَّرَهُ عَلَى الْمَدِينَةِ، وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ مَعَ أَصْحَابِ بَدْرٍ، وَالْحَارِثُ بْنُ حَاطِبٍ رَجَّعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَعَمُوا إِلَى الْمَدِينَةِ وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمِهِ، وَخَرَجَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ، فَرَدَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمٍ مَعَ أَهْلِ بَدْرٍ، وَخَوَّاتُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ النُّعْمَانِ ضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ فِي أَصْحَابِ بَدْرٍ، وَالْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ كُسِرَ بِالرَّوْحَاءِ فَضَرَبَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمٍ وَذَكَرَهُمْ أَيْضًا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، وَذَكَرَهُمْ أَيْضًا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ الْحَارِثَ بْنَ حَاطِبٍ فِي الرَّدِّ إِلَى الْمَدِينَةِ وَاللهُ أَعْلَمُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَإِنَّمَا أَعْطَاهُمْ مِنْ مَالِهِ، وَإِنَّمَا نَزَلَتْ: {وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ} [الأنفال: ٤١] بَعْدَ غَنِيمَةِ بَدْرٍ".
عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ جنگ بدر میں جانے اور نہ جانے والوں کا ذکر کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ میں حاضر ہونے والوں کے لیے حصہ مقرر کیا اور جو غیر حاضر تھے ان میں سے عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس رضی اللہ عنہ کو حصہ دیا، وہ اپنی بیوی رقیہ رضی اللہ عنہا کی بیماری کی وجہ سے مدینہ میں رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ان کا حصہ دیا تو انھوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اور میرا ثواب؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا ثواب بھی۔“ اور طلحہ بن عبید اللہ بن عثمان بن عمرو بن کعب رضی اللہ عنہ یہ شام میں تھے، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی حصہ دیا تو انھوں نے ثواب کا مطالبہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا ثواب بھی تجھے ملے گا۔“
اور سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ، یہ بھی شام سے آئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ لوٹ چکے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حصہ دیا اور اجر و ثواب کے بارے میں بھی فرمایا کہ ”ملے گا۔“ یہ تینوں مہاجرین میں سے تھے اور انصار میں سے ابو لبابہ رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کی طرف گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مدینہ کا امیر بنایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بدر والوں کے ساتھ حصہ دیا اور حارث بن حاطب رضی اللہ عنہ کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ بھیج دیا تھا، اس کو بھی حصہ دیا تھا۔ عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ بھی نکلے تھے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو واپس کر دیا تھا اور ان کو حصہ بھی دیا، اور خوات بن جبیر بن نعمان رضی اللہ عنہ کو بھی بدر والوں کے ساتھ حصہ دیا اور حارث بن صمہ رضی اللہ عنہ جو کہ روحاء کے مقام پر زخمی ہو گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی حصہ دیا۔ ان سب کا تذکرہ محمد بن اسحاق بن یسار اور موسیٰ بن عقبہ رحمہما اللہ نے بھی کیا ہے مگر حارث بن حاطب رضی اللہ عنہ کو مدینہ کی طرف واپس بھیجنے کا تذکرہ نہیں کیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے مال سے دیا اور اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ﴾ [سورة الأنفال: 41] ”اور جان لو کہ بیشک تم جو کچھ بھی غنیمت حاصل کرو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسول کے لیے ہے۔“ یہ بدر کے بعد کا واقعہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 17987]

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 17987 in Urdu