السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3591. -- باب: ما يفعله بالرجال البالغين منهم
-- باب: ان میں سے بالغ مردوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18028
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَكَانَ الْمَمْنُونُ عَلَيْهِمْ بِلَا فِدْيَةٍ أَبَا عَزَّةَ الْجُمَحِيَّ، تَرَكَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنَاتِهِ، وَأَخَذَ عَلَيْهِ عَهْدًا أَنْ لَا يُقَاتِلَهُ، فَأَخْفَرَهُ وَقَاتَلَهُ يَوْمَ أُحُدٍ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يُفْلِتَ، فَمَا أُسِرَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ رَجُلٌ غَيْرُهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ امْنُنْ عَلَيَّ وَدَعْنِي لِبَنَاتِي وَأُعْطِيَكَ عَهْدًا أَنْ لَا أَعُودَ لِقِتَالِكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَمْسَحُ عَلَى عَارِضَيْكَ بِمَكَّةَ تَقُولُ: قَدْ خَدَعْتُ مُحَمَّدًا مَرَّتَيْنِ". فَأَمَرَ بِهِ فَضُرِبَ عُنُقُهُ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ فَذَكَرَهُ." وَقَدْ رُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ غَيْرِ الشَّافِعِيِّ فِي كِتَابِ الْقَسْمِ".
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو عزہ جمحی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر فدیہ کے احسان کرتے ہوئے چھوڑ دیا، (یہ) اس کی بیٹیوں کی وجہ سے (کیا) اور وعدہ لیا کہ آئندہ وہ آپ سے لڑائی نہ کرے گا، لیکن اس نے وعدہ خلافی کی اور احد کے دن آپ سے لڑائی کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ وہ بچ کر نہ نکلے، چنانچہ مشرکین میں سے اس کے علاوہ کوئی اور شخص قیدی نہ بنایا گیا، ابو عزہ جمحی نے کہا: اے محمد! مجھ پر احسان فرمائیں اور مجھے میری بیٹیوں کی خاطر چھوڑ دیں، میں آپ سے عہد کرتا ہوں کہ آئندہ آپ سے قتال کے لیے نہ آؤں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(نہیں،) تم مکہ میں اپنے رخساروں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے یہ نہیں کہو گے کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دو مرتبہ دھوکا دیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا تو اس کی گردن تن سے جدا کر دی گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18028]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18028 in Urdu