السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3591. -- باب: ما يفعله بالرجال البالغين منهم
-- باب: ان میں سے بالغ مردوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18029
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: أَمَّنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ أَبَا عَزَّةَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ عَبْدٍ الْجُمَحِيَّ، وَكَانَ شَاعِرًا، وَكَانَ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ لِي خَمْسَ بَنَاتٍ لَيْسَ لَهُنَّ شَيْءٌ فَتَصَدَّقْ بِي عَلَيْهِنَّ، فَفَعَلَ، وَقَالَ أَبُو عَزَّةَ: أُعْطِيكَ مَوْثِقًا أَنْ لَا أُقَاتِلَكَ وَلَا أُكْثِرَ عَلَيْكَ أَبَدًا، فَأَرْسَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا خَرَجَتْ قُرَيْشٌ إِلَى أُحُدٍ جَاءَهُ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ، فَقَالَ: اخْرُجْ مَعَنَا، فَقَالَ: إِنِّي قَدْ أَعْطَيْتُ مُحَمَّدًا مَوْثِقًا أَنْ لَا أُقَاتِلَهُ، فَضَمِنَ صَفْوَانُ أَنْ يَجْعَلَ بَنَاتِهِ مَعَ بَنَاتِهِ إِنْ قُتِلَ، وَإِنْ عَاشَ أَعْطَاهُ مَالًا كَثِيرًا، فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى خَرَجَ مَعَ قُرَيْشٍ يَوْمَ أُحُدٍ، فَأُسِرَ وَلَمْ يُؤْسَرْ غَيْرُهُ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّمَا أُخْرِجْتُ كَرْهًا وَلِي بَنَاتٌ فَامْنُنْ عَلَيَّ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيْنَ مَا أَعْطَيْتَنِي مِنَ الْعَهْدِ وَالْمِيثَاقِ؟ لَا، وَاللهِ لَا تَمْسَحُ عَارِضَيْكَ بِمَكَّةَ تَقُولُ: سَخِرْتُ بِمُحَمَّدٍ مَرَّتَيْنِ". قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يُلْدَغُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ، يَا عَاصِمُ بْنَ ثَابِتٍ قَدِّمْهُ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ". فَقَدَّمَهُ فَضَرَبَ عُنُقَهُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" ثُمَّ أَسَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَامَةَ بْنَ أُثَالٍ الْحَنَفِيَّ بَعْدُ فَمَنَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ عَادَ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ بَعْدُ فَأَسْلَمَ وَحَسُنَ إِسْلَامُهُ".
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدی ابو عزہ عبداللہ بن عمرو بن عبد جمحی شاعر کو احسان کرتے ہوئے چھوڑ دیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ میری پانچ بچیاں ہیں، ان کی وجہ سے میرے اوپر احسان کریں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احسان کر دیا۔ ابو عزہ نے کہا: نہ تو خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف آؤں گا اور نہ ہی تعداد کو زیادہ کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ جب قریشی غزوۂ احد کے لیے نکلے تو صفوان بن امیہ نے ابو عزہ سے نکلنے کا مطالبہ کر دیا، تو ابو عزہ نے کہا: میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ لڑنے کا پختہ عہد کیا ہوا ہے، تو صفوان بن امیہ نے اس کی بیٹیوں کی پرورش کا ذمہ لیا، اگر وہ قتل کر دیا گیا؛ اور اگر زندہ رہا تو اسے بہت زیادہ مال دیا جائے گا۔ پھر جب غزوۂ احد میں وہ قریشیوں کے ساتھ نکلا تو یہ اکیلا قیدی بنایا گیا، تو اس نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے زبردستی لایا گیا، آپ میرے اوپر بچیوں کی وجہ سے احسان کریں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا وہ عہد و پیمان کہاں گیا جو تو نے مجھے دیا تھا؟ نہیں، اللہ کی قسم! تو مکہ میں اپنے رخساروں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے یہ نہیں کہے گا کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے دو مرتبہ مذاق کیا ہے۔“
(ب) سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن ایک بل سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا، اے عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ! اس کی گردن تن سے جدا کر دو“، تو انہوں نے اس کا سر قلم کر دیا۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کو قیدی بنایا تو احسان کر کے چھوڑ دیا، تو ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا، پھر ان کا اسلام اچھا ہو گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18029]
(ب) سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن ایک بل سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا، اے عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ! اس کی گردن تن سے جدا کر دو“، تو انہوں نے اس کا سر قلم کر دیا۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کو قیدی بنایا تو احسان کر کے چھوڑ دیا، تو ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا، پھر ان کا اسلام اچھا ہو گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18029]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدًا»
الحكم على الحديث: ضعيف جدًا
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18029 in Urdu