السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3595. -- باب: جريان الرق على الأسير وإن أسلم إذا كان إسلامه بعد الأسر
-- باب: قیدی کو غلام بنانے کا بیان اگرچہ وہ اسلام لے آئے، بشرطیکہ اس کا اسلام لانا قید ہونے کے بعد ہو۔
حدیث نمبر: 18066
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَقِيلٍ، فَأَوْثَقُوهُ فَطَرَحُوهُ فِي الْحَرَّةِ، فَمَرَّ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ مَعَهُ، أَوْ قَالَ: أَتَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ وَتَحْتَهُ قَطِيفَةٌ، فَنَادَاهُ: يَا مُحَمَّدُ، يَا مُحَمَّدُ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَا شَأْنُكَ". قَالَ: فِيمَ أُخِذْتُ، وَفِيمَ أُخِذَتْ سَابِقَةُ الْحَاجِّ؟ قَالَ:" أُخِذْتَ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكُمْ ثَقِيفٍ". وَكَانَتْ ثَقِيفٌ قَدْ أَسَرَتْ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَرَكَهُ وَمَضَى، فَنَادَاهُ: يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ، فَرَحِمَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" مَا شَأْنُكَ"؟ فَقَالَ إِنَّهُ مُسْلِمٌ، قَالَ:" لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلَاحِ". قَالَ: فَتَرَكَهُ وَمَضَى، فَنَادَاهُ: يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي، قَالَ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: وَإِنِّي عَطْشَانُ فَاسْقِنِي. قَالَ:" هَذِهِ حَاجَتُكَ". قَالَ: فَفَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّجُلَيْنِ اللَّذَيْنِ أَسَرَتْهُمَا ثَقِيفٌ وَأَخَذَ نَاقَتَهُ تِلْكَ. ⦗١٢٤⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابہ نے بنو عقیل کا ایک شخص قیدی بنا کر، باندھ کر پتھریلی زمین میں پھینک دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے۔ ہم بھی آپ کے ہمراہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نیچے ایک چادر تھی تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی: ”اے محمد! اے محمد!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا بات ہے؟“ اس نے کہا: ”مجھے کیونکر پکڑا گیا ہے؟ اور حاجیوں سے آگے نکلنے والی (اونٹنی) کو کیوں پکڑا گیا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پکڑا گیا ہے تیرے حلیف بنو ثقیف کے جرم کی پاداش میں اور بنو ثقیف نے دو صحابہ کو قیدی بنا لیا تھا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو چھوڑ کر چل دیے۔ اس نے پھر آواز دی: ”اے محمد! اے محمد!“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر رحم آگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا بات ہے؟“ اس نے کہا: ”میں تو مسلمان ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اس وقت یہ بات کہہ دیتا جب تو آزاد تھا تو ہر طرح سے کامیاب ہوجاتا۔“ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو چھوڑ کر چل دیے تو اس نے آواز دی: ”اے محمد! اے محمد!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آگئے۔ اس نے کہا: ”میں بھوکا ہوں، مجھے کھانا کھلاؤ۔“ راوی کہتے ہیں: میرا گمان ہے، اس نے کہا: ”میں پیاسا ہوں، مجھے پانی پلاؤ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تیری ضرورت ہے۔“ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے عوض اپنے دو آدمیوں کو رہا کروایا جن کو بنو ثقیف نے قید کرلیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اونٹنی بھی لے لی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18066]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٦٤١»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18066 in Urdu