السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3615. -- باب: الكافر الحربي يقتل مسلما ثم يسلم لم يكن عليه قود
-- باب: حربی کافر کسی مسلمان کو قتل کر دے پھر اسلام لے آئے تو اس پر قصاص نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 18190
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو عَاصِمٍ، أنبأ حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ، قَالَ: حَضَرْنَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ فِي سِيَاقَةِ الْمَوْتِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَايِعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَقُلْتُ: ابْسُطْ يَمِينَكَ أُبَايِعْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَبَسَطَ يَدَهُ، فَقَبَضْتُ يَدِي، فَقَالَ:" مَا لَكَ يَا عَمْرُو؟". قُلْتُ: أَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِطَ، قَالَ:" تَشْتَرِطُ مَاذَا؟". قُلْتُ: أَشْتَرِطُ أَنْ يُغْفَرَ لِي، قَالَ:" أَمَا عَلِمْتَ يَا عَمْرُو أَنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ". وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ.
ابن شماسہ مصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی موت کے وقت ان کے پاس حاضر ہوئے۔ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسلام پر بیعت کے لیے حاضر ہوا۔ میں نے کہا: ہاتھ نکالیے اے اللہ کے رسول! میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ پھیلایا تو میں نے ہاتھ پیچھے کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے عمرو! کیا بات ہے؟“ میں نے کہا: میں شرط کرنا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شرط کرو کیا ہے؟“ میں نے کہا: میری شرط یہ ہے کہ مجھے معاف کر دیا جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمرو! کیا تو جانتا نہیں ہے کہ اسلام پہلے تمام گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18190]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم ١٢١»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18190 in Urdu