السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3615. -- باب: الكافر الحربي يقتل مسلما ثم يسلم لم يكن عليه قود
-- باب: حربی کافر کسی مسلمان کو قتل کر دے پھر اسلام لے آئے تو اس پر قصاص نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 18191
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الدَّغُولِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: رُمِيَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِسَهْمٍ يَوْمَ الطَّائِفِ، فَانْتَقَضَتْ بِهِ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَمَاتَ، فَذَكَرَ قِصَّتَهُ، قَالَ: فَقَدِمَ عَلَيْهِ وَفْدُ ثَقِيفٍ وَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ السَّهْمُ عِنْدَهُ، فَأَخْرَجَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: هَلْ يَعْرِفُ هَذَا السَّهْمَ مِنْكُمْ أَحَدٌ؟ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ أَخُو بَنِي الْعَجْلَانِ: هَذَا سَهْمٌ أَنَا بَرَيْتُهُ وَرُشْتُهُ وَعَقَّبْتُهُ، وَأَنَا رَمَيْتُ بِهِ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" فَإِنَّ هَذَا السَّهْمَ الَّذِي قَتَلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَكْرَمَهُ بِيَدِكَ وَلَمْ يُهِنْكَ بِيَدِهِ، فَإِنَّهُ أَوْسَعُ لَكُمَا".
قاسم بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کو طائف کے دن تیر لگ گیا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے چالیس دن بعد فوت ہو گئے۔ انہوں نے قصہ ذکر کیا کہ ان کے پاس ثقیف کا وفد آیا، یہ تیر ان کے پاس ہی تھا۔ وفد کے سامنے تیر کو پیش کیا اور کہنے لگے: تم میں سے کوئی اس تیر کو پہچانتا ہے؟ تو بنو عجلان کے سعید بن عبید نے کہا: یہ تیر میں نے تراشا تھا اور میں نے ہی پھینکا تھا۔ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اس تیر نے عبداللہ بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کو قتل کیا تھا۔ تمام تعریفیں اس ذات کی جس نے تیرے ہاتھ کے ذریعے اسے عزت دی اور اس کے ہاتھ کے ذریعے تجھے رسوا نہیں کیا؛ کیونکہ یہ تم دونوں کے لیے زیادہ بہتر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18191]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18191 in Urdu