🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
367. -- باب: بدء الأذان
-- باب: اذان کی ابتدا کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1834
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْخُتُلِّيُّ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، وَحَدِيثُ عَبَّادٍ أَتَمُّ قَالَا: ثنا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قَالَ زِيَادٌ: أنا أَبُو بِشْرٍ عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: اهْتَمَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصَّلَاةِ كَيْفَ يَجْمَعُ النَّاسَ لَهَا فَقِيلَ لَهُ: انْصِبْ رَايَةً عِنْدَ حُضُورِ الصَّلَاةِ فَإِذَا رَأَوْهَا آذَنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فَلَمْ يُعْجِبْهُ ذَلِكَ قَالَ: فَذُكِرَ لَهُ الْقُنْعُ يَعْنِي الشَّبُّورَ وَقَالَ زِيَادٌ: شَبُّورُ الْيَهُودِ فَلَمْ يُعْجِبْهُ ذَلِكَ وَقَالَ:" هُوَ مِنْ أَمْرِ الْيَهُودِ" قَالَ: فَذُكِرَ لَهُ النَّاقُوسُ فَقَالَ:" هُوَ مِنْ أَمْرِ النَّصَارَى" فَانْصَرَفَ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ وَهُو مُهْتَمٌّ لِهَمِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُرِيَ الْأَذَانَ فِي مَنَامِهِ قَالَ: فَغَدَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي لَبَيْنَ نَائِمٍ وَيَقْظَانَ إِذْ أَتَانِي آتٍ فَأَرَانِي الْأَذَانَ قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابٍ قَدْ رَآهُ قَبْلَ ذَلِكَ فَكَتَمَهُ عِشْرِينَ يَوْمًا قَالَ: ثُمَّ أَخْبَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ:" مَا مَنَعَكَ أَنْ تُخْبِرَنَا؟" فَقَالَ: سَبَقَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ فَاسْتَحْيَيْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا بِلَالُ قُمْ فَانْظُرْ مَا يَأْمُرُكَ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ فَافْعَلْهُ" قَالَ: فَأَذَّنَ بِلَالٌ قَالَ أَبُو بِشْرٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو عُمَيْرٍ أَنَّ الْأَنْصَارَ تَزْعُمُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ زَيْدٍ لَوْلَا أَنَّهُ كَانَ يَوْمَئِذٍ مَرِيضًا لَجَعَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنًا.
ابو عمیر بن انس اپنے انصار ماموؤں سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے اہتمام کیا کہ لوگوں کو کیسے جمع کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: نماز کے وقت جھنڈا گاڑ دیں، جب اس کو دیکھیں گے تو لوگ آپس میں ایک دوسرے کو بتلا دیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پسند نہ آئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شبور کا ذکر کیا گیا، زیاد کہتے ہیں: یہودیوں کا شبور۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی پسند نہ آیا بلکہ فرمایا: ”یہ یہود کا کام ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ناقوس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ نصاریٰ کا کام ہے۔“ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ پھرے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقصد کا اہتمام کرنے والے تھے، انہیں نیند میں اذان دکھائی گئی، وہ صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں سونے اور جاگنے کے درمیان تھا، اچانک کوئی میرے پاس آیا، اس نے مجھے اذان سکھلائی، یہی خواب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے پہلے دیکھ لیا تھا، لیکن انہوں نے بیس دن اس کو چھپائے رکھا۔ پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس چیز نے تجھ کو منع کیا تھا کہ تو ہم کو خبر دیتا؟“ انہوں نے عرض کیا: عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ مجھ پر سبقت لے گئے ہیں، میں شرماتا رہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال! کھڑے ہو جاؤ اور دیکھو عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ تجھے کیا حکم دیتے ہیں، پھر وہی کرو۔“ پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی۔ ابو بشر کہتے ہیں: ابو عمیر نے مجھ کو خبر دی کہ انصار گمان کرتے تھے کہ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ اگر ان دنوں بیمار نہ ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو مؤذن بنا دیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1834]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابو داؤد 498»

الحكم على الحديث: حسن

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1834 in Urdu