السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
367. -- باب: بدء الأذان
-- باب: اذان کی ابتدا کا بیان
حدیث نمبر: 1835
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَحْيَى أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ السَّمَرْقَنْدِيِّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ ثنا عَمَّى يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاقُوسِ يُعْمَلُ لِيُضْرَبَ بِهِ لِلنَّاسِ فِي الْجَمْعِ لِلصَّلَاةِ أَطَافَ بِي وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ يَحْمِلُ نَاقُوسًا فِي يَدِهِ فَقُلْتُ لَهُ: يَا عَبْدَ اللهِ أَتَبِيعُ النَّاقُوسَ؟ قَالَ: وَمَا تَصْنَعُ بِهِ؟ فَقُلْتُ: نَدْعُو بِهِ إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ: أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ؟ قُلْتُ: بَلَى قَالَ: تَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، حِيِّ عَلَى الصَّلَاةِ، حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حِيِّ عَلَى الْفَلَاحِ، حِيِّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ثُمَّ اسْتَأْخَرَ غَيْرَ بَعِيدٍ قَالَ: ثُمَّ تَقُولُ إِذَا أَقَمْتَ الصَّلَاةَ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حِيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ مَا رَأَيْتُ فَقَالَ:" إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٍّ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا رَأَيْتَ فَلْيُؤَذِّنْ بِهِ فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا مِنْكَ" فَقُمْتُ مَعَ بِلَالٍ فَجَعَلْتُ أُلْقِيهِ عَلَيْهِ وَيُؤَذِّنُ بِهِ فَسَمِعَ بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ وَيَقُولُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ مَا رَأَى فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلِلَّهِ الْحَمْدُ"..
محمد بن عبداللہ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مجھ کو میرے باپ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناقوس بنانے کا حکم دیا تاکہ لوگوں کو نماز کے جمع کرنے کے لیے بجایا جائے تو ایک شخص نے میرے پاس چکر لگایا اور میں سویا ہوا تھا، اس نے اپنے ہاتھ میں ناقوس اٹھایا ہوا تھا، میں نے اس سے کہا: ”اے اللہ کے بندے! کیا تو ناقوس بیچے گا؟“ اس نے کہا: ”تو اس کا کیا کرے گا؟“ میں نے کہا: ”ہم نماز کی طرف بلائیں گے۔“ اس نے کہا: ”کیا میں آپ کو وہ چیز نہ بتاؤں جو اس سے زیادہ بہتر ہو؟“ میں نے کہا: ”کیوں نہیں۔“ اس نے کہا: ”تو کہہ: «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز کی طرف آؤ، نماز کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔“ پھر تھوڑی دیر پیچھے ہٹا اور کہا: ”جب تو اقامت کہے تو کہہ: «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، یقیناً نماز کھڑی ہوگئی، یقیناً نماز کھڑی ہوگئی، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔“ صبح کے وقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی جو میں نے دیکھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ سچا خواب ہے ان شاء اللہ تعالیٰ۔ تم بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑے ہو کہ اس کو سکھاؤ جو تم نے دیکھا تھا، وہ ان الفاظ کے ساتھ اذان دے وہ تجھ سے زیادہ بلند آواز والا ہے“، میں بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑا ہوا، میں انھیں سکھاتا تھا اور وہ اذان دیتے تھے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جب یہ سنا تو وہ اپنے گھر میں تھے، وہ نکلے اور اپنی چادر کو کھینچ رہے تھے اور کہہ رہے تھے: ”اے اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں نے بھی ان کی طرح خواب دیکھا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1835]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه أبو داؤد 499»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1835 in Urdu