السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3692. -- باب: فضل من مات في سبيل الله
-- باب: اللہ کی راہ میں وفات پانے والے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 18534
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ،، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ الْحِيرِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ قَالُوا: أنبأ ⦗٢٧٩⦘ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ، وَكَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ، ثُمَّ جَلَسَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ، فَنَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ قَالَت: فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ: نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللهِ يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ مُلُوكًا عَلَى الْأَسِرَّةِ"، أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ، يَشُكُّ أَيُّهُمَا. قَالَ: قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. فَدَعَا لَهَا، ثُمَّ وَضَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فَنَامَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللهِ"، كَمَا قَالَ فِي الْأُولَى، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. قَالَ:" أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ". فَرَكِبَتْ أُمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ الْبَحْرَ فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ فَهَلَكَتْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ إِسْمَاعِيلَ وَغَيْرِهِ، عَنْ مَالِكٍ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے پاس کھانے کے لیے تشریف لائے اور سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے تو وہ کھانا کھلانے کے بعد سر سے جوئیں نکالنے بیٹھ گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے کے بعد بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو کس بات نے ہنسا دیا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے لوگ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے میرے سامنے پیش کیے گئے۔ وہ سمندر کے درمیان سواری کرتے ہیں، جیسے بادشاہ تختوں پر۔“ راوی کہتے ہیں کہ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! دعا کر دیں کہ میں بھی ان میں سے ہو جاؤں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کر دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سونے کے بعد بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ وہ فرماتی ہیں: میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کو کس چیز نے ہنسا دیا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے لوگ غزوہ کرتے ہوئے میرے سامنے پیش کیے گئے جیسے پہلی مرتبہ تھے۔“ انہوں نے دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کی درخواست کر دی کہ انہیں ان میں شمار کیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پہلے لوگوں میں سے ہو۔“ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا نے سمندر کا سفر کیا، جب وہ سمندر سے نکلیں تو چوپائے کی سواری سے گرنے کی وجہ سے وفات پا گئیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18534]
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18534 in Urdu