السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3692. -- باب: فضل من مات في سبيل الله
-- باب: اللہ کی راہ میں وفات پانے والے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 18535
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا، ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَتْنِي أَمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي بَيْتِهَا يَوْمًا ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا أَضْحَكَكَ؟ قَالَ:" عُرِضَ عَلَيَّ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ". قُلْتُ: ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. فَدَعَا لَهَا ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ فَقُلْتُ: ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ:" أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ". فَتَزَوَّجَهَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، فَغَزَا بِهَا فِي الْبَحْرِ، فَلَمَّا رَجَعُوا قُرِّبَتْ لَهَا بَغْلَةٌ لِتَرْكَبَهَا، فَصَرَعَتْهَا فَدُقَّتْ عُنُقُهَا فَمَاتَتْ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، عَنْ حَمَّادٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ خَلَفِ بْنِ هِشَامٍ.
ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میرے گھر قیلولہ فرما رہے تھے تو بیدار ہونے کے بعد مسکرا رہے تھے۔ میں نے پوچھا: آپ کو کس چیز نے مسکرا دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے لوگ سمندر پر سواری کرتے ہوئے میرے سامنے پیش کیے گئے جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔“ میں نے کہا: دعا کریں اللہ مجھے بھی ان میں شامل کر لے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کر کے دوبارہ لیٹ گئے۔ پھر بیدار ہونے کے بعد اسی طرح ہی فرمایا، میں نے دوبارہ دعا کی درخواست کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پہلے لوگوں میں سے ہے۔“ تو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کیا اور انہیں سمندری سفر میں لے گئے۔ جب واپس آنے لگے تو خچر سے گرنے کی وجہ سے گردن ٹوٹ گئی، یہ ان کی ہلاکت کا سبب بنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب السير/حدیث: 18535]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18535 in Urdu