🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3722. -- باب: المجوس أهل كتاب والجزية تؤخذ منهم
-- باب: مجوسی اہل کتاب ہیں اور ان سے بھی جزیہ لیا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18650
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ سَعِيدِ بْنِ الْمَرْزُبَانِ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ: قَالَ فَرْوَةُ بْنُ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيُّ: عَلَامَ تُؤْخَذُ الْجِزْيَةُ مِنَ الْمَجُوسِ وَلَيْسُوا بِأَهْلِ كِتَابٍ؟ فَقَامَ إِلَيْهِ الْمُسْتَوْرِدُ فَأَخَذَ يُلَبِّبُهُ فَقَالَ: يَا عَدُوَّ اللهِ تَطْعَنُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَعَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ يَعْنِي عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَدْ أَخَذُوا مِنْهُمُ الْجِزْيَةَ؟ فَذَهَبَ بِهِ إِلَى الْقَصْرِ فَخَرَجَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَيْهِمَا وَقَالَ: الْبَدَا، فَجَلَسَا فِي ظِلِّ الْقَصْرِ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِالْمَجُوسِ، كَانَ لَهُمْ عِلْمٌ يَعْلَمُونَهُ، وَكِتَابٌ يَدْرُسُونَهُ، وَإِنَّ مَلِكَهُمْ سَكِرَ فَوَقَعَ عَلَى ابْنَتِهِ أَوْ أُخْتِهِ، فَاطَّلَعَ عَلَيْهِ بَعْضُ أَهْلِ مَمْلَكَتِهِ، فَلَمَّا صَحَا جَاءُوا يُقِيمُونَ عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَامْتَنَعَ مِنْهُمْ، فَدَعَا أَهْلَ مَمْلَكَتِهِ، فَلَمَّا أَتَوْهُ قَالَ: تَعْلَمُونَ دِينًا خَيْرًا مِنْ دِينِ ⦗٣١٨⦘ آدَمَ وَقَدْ كَانَ يُنْكِحُ بَنِيهِ مِنْ بَنَاتِهِ، وَأَنَا عَلَى دِينِ آدَمَ، مَا يَرْغَبُ بِكُمْ عَنْ دِينِهِ؟ قَالَ: فَبَايَعُوهُ وَقَاتَلُوا الَّذِينَ خَالَفُوهُمْ حَتَّى قَتَلُوهُمْ، فَأَصْبَحُوا وَقَدْ أَسْرَى عَلَى كِتَابِهِمْ فَرُفِعَ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِهِمْ، وَذَهَبَ الْعِلْمُ الَّذِي فِي صُدُورِهِمْ، فَهُمْ أَهْلُ كِتَابٍ، وَقَدْ أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مِنْهُمُ الْجِزْيَةَ..
فروہ بن نوفل اشجعی نے کہا: آپ مجوس سے جزیہ کیوں لیں گے حالانکہ وہ اہل کتاب نہیں؟ تو مستورد نے کہا: اے اللہ کے دشمن! آپ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر تنقید کرتے ہیں کہ انہوں نے ان سے جزیہ وصول کیا۔ جب وہ شاہی محل میں گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ دونوں محل کے سائے میں بیٹھ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں مجوس کے متعلق جانتا ہوں کہ وہ علم سکھاتے تھے اور کتاب پڑھاتے تھے۔ ان کے بادشاہ نے حالتِ نشہ میں اپنی بیٹی یا بہن سے زنا کر لیا، جس کا علم بعض لوگوں کو ہو گیا تو وہ حد کے نفاذ کے لیے آئے۔ انہوں نے ان کو روک دیا۔ پھر اس نے اپنے لوگوں کو بلا کر کہا کہ کیا آدم کے دین سے بہتر بھی کوئی دین ہے، جس میں وہ اپنے بیٹوں کا نکاح اپنی بیٹیوں سے کر دیتے تھے، میں آدم کے دین پر ہوں۔ راوی کہتے ہیں: انہوں نے اس کی بیعت کی اور اپنے مخالفین سے لڑائی کی یہاں تک کہ انہیں قتل کر دیا، پھر جب صبح ہوئی تو ان کی کتاب راتوں رات ان کے درمیان سے اٹھا لی گئی تھی اور ان کے سینوں کا علم ختم کر دیا گیا تھا، پس وہ اہل کتاب ہیں۔ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جزیہ وصول کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18650]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18650 in Urdu