السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3770. -- باب: نقض أهل العهد أو بعضهم العهد
-- باب: تمام معاہدین (اہلِ عہد) یا ان میں سے بعض کے عہد توڑنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18859
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ جَمِيعًا، قَالَا: كَانَ فِي صُلْحِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قُرَيْشٍ أَنَّهُ مَنْ شَاءَ أَنْ يَدْخُلَ فِي عَقْدِ مُحَمَّدٍ وَعَهْدِهِ دَخَلَ، وَمَنْ شَاءَ أَنْ يَدْخُلَ فِي عَقْدِ قُرَيْشٍ وَعَهْدِهِمْ دَخَلَ، فَتَوَاثَبُوا خُزَاعَةُ فَقَالُوا: نَحْنُ نَدْخُلُ فِي عَقْدِ مُحَمَّدٍ وَعَهْدِهِ، وَتَوَاثَبَتْ بَنُو بَكْرٍ فَقَالُوا: نَحْنُ نَدْخُلُ فِي عَقْدِ قُرَيْشٍ وَعَهْدِهِمْ. فَمَكَثُوا فِي تِلْكَ الْهُدْنَةِ نَحْوَ السَّبْعَةَ أَوِ الثَّمَانِيَةَ عَشَرَ شَهْرًا، ثُمَّ إِنَّ بَنِي بَكْرٍ الَّذِينَ كَانُوا دَخَلُوا فِي عَقْدِ قُرَيْشٍ وَعَهْدِهِمْ وَثَبُوا عَلَى خُزَاعَةَ الَّذِينَ دَخَلُوا فِي عَقْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَهْدِهِ لَيْلًا بِمَاءٍ لَهُمْ يُقَالُ لَهُ الْوَتِيرُ قَرِيبٍ مِنْ مَكَّةَ، فَقَالَتْ قُرَيْشٌ: مَا يَعْلَمُ بِنَا مُحَمَّدٌ، وَهَذَا اللَّيْلُ وَمَا يَرَانَا أَحَدٌ. فَأَعَانُوهُمْ عَلَيْهِمْ بِالْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ، فَقَاتَلُوهُمْ مَعَهُمْ لِلضَّغْنِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّ عَمْرَو بْنَ سَالِمٍ رَكِبَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَمَا كَانَ مِنْ أَمْرِ خُزَاعَةَ وَبَنِي بَكْرٍ بِالْوَتِيرِ حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُهُ الْخَبَرَ وَقَدْ قَالَ أَبْيَاتَ شِعْرٍ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْشَدَهُ إِيَّاهَا:.
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان حدیبیہ کے دن صلح ہوئی کہ جو چاہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں شامل ہو جائے اور جو چاہے قریش کے عہد اور معاہدے میں شامل ہو جائے، تو بنو خزاعہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد اور معاہدہ میں شمولیت اختیار کر لی اور بنو بکر قریش کے عہد میں شامل ہو گئے۔ وہ اس صلح میں تقریباً سترہ یا اٹھارہ ماہ رہے، پھر بنو بکر نے، جو قریش کے عہد میں شامل تھے، بنو خزاعہ پر حملہ کر دیا، وتیر نامی جگہ پر جو مکہ کے قریب تھی، قریش نے کہا کہ اس رات محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا کوئی اور ہمیں دیکھ نہیں رہا، تو انہوں نے بنو بکر کی بنو خزاعہ کے خلاف اسلحے سے مدد کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کینہ کی وجہ سے خود بھی ان کے ساتھ لڑے، تو عمرو بن سالم رضی اللہ عنہ سوار ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بنو خزاعہ کی خبر دی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر یہ اشعار پڑھے:
”اے اللہ! میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم دیتا ہوں اپنے باپ کی اور ان کے باپ کی جو مال والے ہیں۔ ہم والد تھے اور آپ بچے تھے، پھر ہم اسلام لے آئے اور ہم نے ہاتھ نہیں کھینچا۔ (اے اللہ!) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح مدد کر۔ اللہ کے بندوں کو پکارو وہ مدد کے لیے آئیں گے۔ ان میں اللہ کے رسول ہیں جو تنہا رہ گئے ہیں۔ اگر گہری نظر سے دیکھو تو ان کا چہرہ چمک رہا ہے، ایسے لشکر میں جو سمندر کی طرح ہے اور غبار اڑا رہا ہے۔ قریش نے آپ سے وعدہ خلافی کی ہے اور آپ کے پختہ عہد کو توڑا ہے۔ ان کا گمان ہے کہ ہم کسی کو نہیں پکاریں گے، حالانکہ وہ رسوا اور کم تعداد والے ہیں۔ انہوں نے میرے لیے کداء مقام میں مورچہ بنا دیا ہے، ہم نے آرام پانے کے لیے سو کر رات گزاری، تو انہوں نے ہم سے اس حال میں جنگ لڑی جب ہم رکوع و سجود کی حالت میں تھے۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمرو بن سالم! تو مدد کیا گیا ہے“، وہ ٹھہرا رہا کہ آسمان سے بادل گزرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بادل بنو کعب کی مدد کی نشانی ہے“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو تیاری کا حکم دے دیا اور نکلنے کے راز کو پوشیدہ رکھا اور اللہ رب العزت سے دعا کی کہ قریش کو خبر نہ ہو یہاں تک کہ ان کے شہر پر حملہ کر دیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18859]
”اے اللہ! میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم دیتا ہوں اپنے باپ کی اور ان کے باپ کی جو مال والے ہیں۔ ہم والد تھے اور آپ بچے تھے، پھر ہم اسلام لے آئے اور ہم نے ہاتھ نہیں کھینچا۔ (اے اللہ!) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح مدد کر۔ اللہ کے بندوں کو پکارو وہ مدد کے لیے آئیں گے۔ ان میں اللہ کے رسول ہیں جو تنہا رہ گئے ہیں۔ اگر گہری نظر سے دیکھو تو ان کا چہرہ چمک رہا ہے، ایسے لشکر میں جو سمندر کی طرح ہے اور غبار اڑا رہا ہے۔ قریش نے آپ سے وعدہ خلافی کی ہے اور آپ کے پختہ عہد کو توڑا ہے۔ ان کا گمان ہے کہ ہم کسی کو نہیں پکاریں گے، حالانکہ وہ رسوا اور کم تعداد والے ہیں۔ انہوں نے میرے لیے کداء مقام میں مورچہ بنا دیا ہے، ہم نے آرام پانے کے لیے سو کر رات گزاری، تو انہوں نے ہم سے اس حال میں جنگ لڑی جب ہم رکوع و سجود کی حالت میں تھے۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمرو بن سالم! تو مدد کیا گیا ہے“، وہ ٹھہرا رہا کہ آسمان سے بادل گزرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بادل بنو کعب کی مدد کی نشانی ہے“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو تیاری کا حکم دے دیا اور نکلنے کے راز کو پوشیدہ رکھا اور اللہ رب العزت سے دعا کی کہ قریش کو خبر نہ ہو یہاں تک کہ ان کے شہر پر حملہ کر دیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18859]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18859 in Urdu