السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3770. -- باب: نقض أهل العهد أو بعضهم العهد
-- باب: تمام معاہدین (اہلِ عہد) یا ان میں سے بعض کے عہد توڑنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18860
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَتَّابٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ قَالَ: ثُمَّ إِنَّ بَنِي نُفَاثَةَ مِنْ بَنِي الدِّيلِ أَغَارُوا عَلَى بَنِي كَعْبٍ وَهُمْ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي بَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ قُرَيْشٍ، وَكَانَتْ بَنُو كَعْبٍ فِي صُلْحِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ بَنُو نُفَاثَةَ فِي صُلْحِ قُرَيْشٍ فَأَعَانَتْ بَنُو بَكْرٍ بَنِي نُفَاثَةَ وَأَعَانَتْهُمْ قُرَيْشٌ بِالسِّلَاحِ وَالرَّقِيقِ وَاعْتَزَلَتْهُمْ بَنُو مُدْلِجٍ وَأَوْفَوْا بِالْعَهْدِ. قَالَ: وَيَذْكُرُونَ أَنَّ مِمَّنْ أَعَانَهُمْ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ، وَشَيْبَةَ بْنَ عُثْمَانَ، وَسُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو، فَأَغَارَتْ بَنُو الدِّيلِ عَلَى بَنِي عَمْرٍو وَعَامَّتِهِمْ زَعَمُوا أَنَّ النِّسَاءَ وَالصِّبْيَانَ وَضُعَفَاءَ الرِّجَالِ فَأَثْخَنُوهُمْ وَقَتَلُوا مِنْهُمْ حَتَّى أَدْخَلُوهُمْ دَارَ بُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ بِمَكَّةَ، قَالَ: فَخَرَجَ رَكْبٌ مِنْ بَنِي كَعْبٍ حَتَّى أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرُوا لَهُ الَّذِي أَصَابَهُمْ وَمَا كَانَ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَيْهِمْ فِي ذَلِكَ وَالَّذِي أَعَانُوا بِهِ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ ذَكَرَ جِهَازَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدُخُولَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَقَالَ يا ِرَسُولِ اللهِ: أَتُرِيدُ أَنْ تَخْرُجَ مَخْرَجًا؟ قَالَ:" نَعَمْ". قَالَ: لَعَلَّكَ تُرِيدُ بَنِي الْأَصْفَرِ؟ قَالَ:" لَا". قَالَ: أَفَتُرِيدُ أَهْلَ نَجْدٍ؟ قَالَ:" لَا". قَالَ: فَلَعَلَّكَ تُرِيدُ قُرَيْشًا؟ قَالَ:" نَعَمْ". قَالَ: أَلَيْسَ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُمْ مُدَّةٌ؟ قَالَ:" أَلَمْ يَبْلُغْكَ مَا صَنَعُوا بِبَنِي كَعْبٍ"؟ وَأَذَّنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ بِالْغَزْوِ وَأَمَّا الْحُكْمُ بَيْنَ الْمُعَاهَدِينَ فَقَدْ مَضَى ذِكْرُهُ فِي كِتَابِ الْحُدُودِ وَالْغَصْبِ وَغَيْرِهاِ.
اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ اپنے چچا موسیٰ بن عقبہ سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو نفاثہ، جو بنو دیل سے ہیں، انہوں نے بنو کعب پر حملہ کر دیا اور وہ اس معاہدہ کی مدت میں تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قریشیوں کے درمیان تھا، تو بنو کعب صلح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، جبکہ بنو نفاثہ قریشیوں کے ساتھ شامل تھے، بنو بکر نے بنو نفاثہ کی مدد کی اور قریشیوں نے اسلحے اور غلاموں سے ان کا تعاون کیا، لیکن بنو مدلج جدا رہے اور انہوں نے عہد کو پورا کیا۔ راوی فرماتے ہیں کہ ان کی مدد صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ، شیبہ بن عثمان رضی اللہ عنہ، سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کی، تو بنو دیل نے بنو عمرو پر اور ان کے عام لوگوں پر حملہ کر دیا، عورتوں، بچوں اور کمزور مردوں کا خون بہایا اور ان میں سے بعض بدیل بن ورقاء رضی اللہ عنہ کے گھر داخل ہو گئے۔ راوی کہتے ہیں: بنو کعب کے ایک سوار نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا حال سنایا اور جو قریشیوں نے ان کے خلاف مدد کی تھی، بتایا۔ پھر اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تیاری اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا آپ کے پاس آنے کا تذکرہ کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ نکلنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، لڑائی کا ارادہ ہے۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: شاید آپ رومیوں کا ارادہ رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا اہل نجد سے لڑائی کا ارادہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان سے لڑائی کا کوئی ارادہ نہیں۔“ پوچھا: کیا آپ قریش سے لڑائی کا ارادہ رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: کیا آپ اور ان کے درمیان معاہدہ نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تجھے خبر نہیں ملی جو انہوں نے بنو کعب کے ساتھ کیا؟“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں جہاد کا اعلان کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجزية/حدیث: 18860]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 18860 in Urdu