🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
381. -- باب: الأذان والإقامة للفائتة
-- باب: قضا نماز کے لیے اذان اور اقامت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1894
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدِ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَرْتِيُّ الْقَاضِي ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ثنا أَبَانُ الْعَطَّارُ، نا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" عَرَّسَ بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْجِعَهُ مِنْ خَيْبَرَ فَقَالَ:" مَنْ يَحْفَظُ عَلَيْنَا الصَّلَاةَ؟" فَقَالَ بِلَالٌ: أَنَا، فَنَامُوا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَحَوَّلُوا عَنْ مَكَانِكُمُ الَّذِي أَصَابَتْكُمْ بِهِ الْغَفْلَةُ" فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا بِلَالُ نِمْتَ؟" فَقَالَ: أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِأَنْفَاسِكُمْ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: {أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي} [طه: ١٤] " وَرَوَاهُ مَالِكٌ فِي الْمُوَطَّأِ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ مُرْسَلًا وَذَكَرَ فِيهِ الْأَذَانَ، وَالْأَذَانُ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ صَحِيحٌ ثَابِتٌ قَدْ رَوَاهُ غَيْرُ أَبِي هُرَيْرَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ پڑاؤ ڈالا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے لوٹے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہماری نماز کی حفاظت کرے گا؟“ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میں، (رات کو) وہ سو گئے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال! آپ سو گئے تھے؟“ انہوں نے کہا: میری جان کو اس نے پکڑ لیا جس کو آپ کی جانوں نے پکڑا تھا (یعنی نیند نے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان دی اور اقامت کہی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی جگہ سے کوچ کرو یہاں تم کو غفلت پہنچی ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے اگر کوئی نماز بھول جائے تو جب اس کو یاد آئے وہ پڑھ لے۔“ اللہ عزوجل نے فرمایا: ﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ [سورة طه: 14]
(ب) مؤطا میں زہری نے ابن مسیب سے مرسلاً نقل کیا ہے اور اس میں اذان کا ذکر کیا ہے۔ نیز فرماتے ہیں کہ اس قصے میں اذان کا کہنا صحیح اور ثابت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1894]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1894 in Urdu