🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
381. -- باب: الأذان والإقامة للفائتة
-- باب: قضا نماز کے لیے اذان اور اقامت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1895
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَرَيْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: لَوْ عَرَّسْتَ بِنَا يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ:" إِنِّي أَخَافُ أَنْ تَنَامُوا عَنِ الصَّلَاةِ" فَقَالَ بِلَالٌ: أَنَا أُوقِظُكُمْ، فَنَزَلَ الْقَوْمُ فَاضْطَجَعُوا وَأَسْنَدَ بِلَالٌ ظَهْرَهُ إِلَى رَاحِلَتِهِ فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا بِلَالُ أَيْنَ مَا قُلْتَ؟" قَالَ بِلَالٌ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا أُلْقِيَتْ عَلَيَّ مِنْ نَوْمَةٍ مِثْلِهَا قَطُّ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللهَ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حِينَ شَاءَ وَرَدَّهَا إِلَيْكُمْ حِينَ شَاءَ" ثُمَّ قَالَ:" يَا بِلَالُ قُمْ فَآذِنِ النَّاسَ بِالصَّلَاةِ" فَتَوَضَّأَ فَلَمَّا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ وَابْيَضَّتْ قَامَ فَصَلَّى رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ.
عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے، بعض لوگ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! کاش! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ پڑاؤ کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے خوف ہے کہیں کہ تم نماز سے سو نہ جاؤ“، بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو بیدار کر دوں گا، لوگوں نے پڑاؤ کیا اور آرام کے لیے لیٹ گئے اور بلال رضی اللہ عنہ نے بھی سواری کے ساتھ ٹیک لگا لی، نیند آپ رضی اللہ عنہ پر غالب آگئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیدار ہوئے تو سورج کا کنارہ طلوع ہو چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال! کہاں ہے جو تو نے کہا تھا؟“ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ پر اس طرح کی نیند کبھی بھی نہیں ڈالی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ نے تمہاری روحوں کو جب چاہا قبض کر لیا اور جب چاہا انہیں تمہاری طرف لوٹا دیا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال! کھڑے ہو اور لوگوں کو نماز کی اطلاع دو“، انھوں نے وضو کیا، جب سورج بلند اور سفید ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1895]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 570»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1895 in Urdu